بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں اوچ پاور پلانٹ سے منسلک 220 کے وی بجلی کے ٹرانسمیشن ٹاور کو دھماکے سے نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث سندھ اور پنجاب کی جانب بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی۔ پولیس اور مقامی حکام کے مطابق واقعہ ڈیرہ مراد جمالی کے قریب گوٹھ مغل خان بگٹی کے علاقے میں پیش آیا اور ابتدائی شواہد سے دھماکا خیز مواد کے استعمال کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق نامعلوم افراد نے ٹرانسمیشن پائلن کے قریب مبینہ طور پر دیسی ساختہ دھماکا خیز آلہ نصب کیا تھا۔ دھماکے کے نتیجے میں ٹاور کو شدید نقصان پہنچا اور بجلی کی ترسیلی لائن متاثر ہوئی۔ واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور ذمہ داروں کی تلاش شروع کر دی۔

متاثرہ لائن اوچ پاور پلانٹ سے بجلی کو قومی گرڈ کی سمت منتقل کرنے والے نظام کا حصہ ہے۔ ایسے ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن ڈھانچے کو نقصان پہنچنے سے بجلی کی فراہمی میں خلل پیدا ہو سکتا ہے اور متبادل راستوں پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ حکام نے فوری طور پر نقصان کا تکنیکی جائزہ شروع کیا تاکہ مرمت اور ترسیل کی بحالی کا کام کیا جا سکے۔

پولیس نے واقعے کو تخریب کاری کے زاویے سے دیکھتے ہوئے تحقیقات شروع کی ہیں، تاہم کسی گروہ کی ذمہ داری یا حملہ آوروں کی شناخت کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے واقعے کو کسی مخصوص تنظیم سے منسوب کرنا قبل از وقت ہوگا۔ سکیورٹی ادارے دھماکے کی نوعیت، استعمال ہونے والے مواد اور ممکنہ سہولت کاروں سے متعلق شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔

بلوچستان میں ماضی میں بھی بجلی، گیس، ریلوے اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ توانائی کے ترسیلی نظام پر ایسے حملے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ دوسرے صوبوں تک بجلی کی فراہمی کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے اہم تنصیبات اور ٹرانسمیشن لائنوں کی حفاظت صوبائی اور وفاقی اداروں کے لیے مستقل چیلنج ہے۔

واقعے میں جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل مالیت اور بحالی کے حتمی وقت کا تعین تکنیکی معائنے کے بعد ہوگا۔ حکام کی آئندہ رپورٹس سے واضح ہوگا کہ لائن کی مکمل بحالی کب ہوتی ہے اور تحقیقات میں حملے کے ذمہ داروں سے متعلق کیا پیش رفت سامنے آتی ہے۔