اسلام آباد: قومی اسمبلی نے پیر کے اجلاس میں سات ترمیمی بل منظور کر لیے، تاہم ایوان میں کم حاضری اور متعدد وزرا کی عدم موجودگی کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کے بعد کارروائی ایک مرتبہ پھر معطل کرنا پڑی۔ اسی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد پر بھی کارروائی نہ ہو سکی۔

ایوان سے منظور ہونے والے مسودات میں پاکستان اسٹڈی سینٹرز (ترمیمی) بل 2026، وفاقی تعلیمی بورڈ برائے انٹرمیڈیٹ و ثانوی تعلیم (ترمیمی) بل 2026، ٹریول ایجنسیز (ترمیمی) بل 2026، پاکستان ٹورسٹ گائیڈ (ترمیمی) بل 2026، پاکستان ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس (ترمیمی) بل 2026، موشن پکچرز (ترمیمی) بل 2026 اور نیشنل کالج آف آرٹس انسٹی ٹیوٹس (ترمیمی) بل 2026 شامل ہیں۔

قانون سازی کے دوران پی ٹی آئی کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی کوشش کی۔ اجلاس میں ارکان کی محدود تعداد پہلے ہی نمایاں تھی اور بالآخر اپوزیشن رکن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کے بعد کارروائی جاری نہ رہ سکی۔ پارلیمانی قواعد کے تحت اجلاس جاری رکھنے کے لیے مقررہ کم از کم تعداد میں ارکان کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔

کم حاضری کے باعث مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کے خلاف قرارداد بھی مؤخر ہوگئی۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر قانون سازی کے دوران ارکان اور متعلقہ حکومتی عہدیداروں کی حاضری کے مسئلے کو نمایاں کیا، خصوصاً ایسے اجلاس میں جہاں متعدد مختلف شعبوں سے متعلق قوانین میں ترامیم زیر غور تھیں۔

منظور کیے گئے بل تعلیم، سیاحت، ہوٹل و ریسٹورنٹ شعبے، فلمی ضابطہ کاری اور نیشنل کالج آف آرٹس سے متعلق قانونی فریم ورک میں ترامیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ قومی اسمبلی سے منظوری قانون سازی کے پارلیمانی عمل کا اہم مرحلہ ہے، تاہم ہر بل کے حتمی قانونی نفاذ کا انحصار آئینی طور پر درکار باقی مراحل کی تکمیل پر ہوگا۔

اجلاس کا اختتام معمول کی کارروائی مکمل ہونے کے بجائے کورم کی کمی کے باعث ہوا۔ اس لیے ایوان کے سامنے موجود دیگر امور اور کشمیر سے متعلق قرارداد آئندہ پارلیمانی کارروائی میں دوبارہ زیر غور آسکتے ہیں۔