کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں نئے صوبے بنانے یا صوبے کی تقسیم سے متعلق تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت اس بحث پر واضح مؤقف رکھتی ہے۔ کراچی میں اسپینسر آئی ہسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے بجائے انتظامی نظام کو بہتر بنانے، مقامی سطح پر اختیارات بڑھانے اور عوامی خدمات کی فراہمی مؤثر بنانے پر توجہ ہونی چاہیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق مختلف سیاسی تجاویز وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں، تاہم پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی حمایت نہیں کرتی۔ ان کا مؤقف تھا کہ انتظامی مسائل کا حل صوبائی حدود تبدیل کرنے کے بجائے بلدیاتی اور ضلعی سطح پر بہتر حکمرانی، مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اداروں کی استعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

ان کے بیان کا پس منظر نئے صوبوں اور ممکنہ آئینی تبدیلیوں سے متعلق جاری سیاسی بحث ہے۔ مختلف جماعتیں ماضی میں جنوبی پنجاب، ہزارہ اور شہری سندھ سمیت متعدد علاقوں کے لیے الگ انتظامی اکائیوں یا صوبوں کی تجاویز پیش کرتی رہی ہیں۔ نئے صوبے کا قیام محض سیاسی اعلان سے ممکن نہیں بلکہ آئین میں ترمیم اور متعلقہ صوبائی اسمبلی سمیت پارلیمانی منظوری کے مخصوص تقاضوں سے مشروط ہوتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری کے اصولوں کا دفاع بھی کیا۔ پارٹی طویل عرصے سے اس ترمیم کو وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ بلاول کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی انتظامی اصلاحات پر گفتگو کے لیے آمادگی تو ظاہر کر رہی ہے، لیکن سندھ کی جغرافیائی تقسیم کو اس کا حل نہیں سمجھتی۔

کراچی اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں بلدیاتی اختیارات، مالی وسائل اور خدمات کی فراہمی کا مسئلہ کئی برسوں سے سیاسی اختلاف کا موضوع ہے۔ ناقدین صوبائی حکومت سے مقامی اداروں کو زیادہ اختیارات دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی صوبائی وحدت برقرار رکھتے ہوئے بلدیاتی نظام میں بہتری کی بات کرتی ہے۔ اس تناظر میں بلاول کا بیان نئے صوبوں کی بحث اور مقامی حکومتوں کی اصلاح کو الگ الگ سیاسی سوالات کے طور پر پیش کرتا ہے۔

یہ بیان کسی نئی آئینی ترمیم یا قانونی اقدام کی منظوری نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے سیاسی مؤقف کی تازہ وضاحت ہے۔ نئے صوبوں سے متعلق کسی عملی آئینی عمل کے لیے باقاعدہ قانون سازی اور مطلوبہ اکثریت ضروری ہوگی، جس کا کوئی حتمی مرحلہ اس بیان میں اعلان نہیں کیا گیا۔