پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم نے صوبے میں چار ہزار سے زائد سرکاری اسکول عمارتوں کو خستہ حال قرار دیا ہے اور ان کی تعمیر نو یا ضروری مرمت کے لیے تقریباً 16.2 ارب روپے کے مالی وسائل درکار ہونے کا تخمینہ پیش کیا ہے۔ یہ صورتحال سرکاری تعلیمی انفراسٹرکچر کی حفاظت اور طلبہ و اساتذہ کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی سے متعلق ایک بڑا انتظامی چیلنج سامنے لاتی ہے۔

محکمے کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار میں ایسے اسکول شامل ہیں جن کی عمارتیں مختلف درجوں میں مرمت، بحالی یا مکمل تعمیر نو کی محتاج ہیں۔ خستہ عمارتوں میں کلاس رومز، چھتوں، دیواروں اور بنیادی سہولیات کی حالت طلبہ کی روزمرہ تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ شدید خرابی کی صورت میں حفاظتی خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

16.2 ارب روپے کا تخمینہ اس وسیع مسئلے کے حل کے لیے درکار مجموعی وسائل کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم تمام رقم کی فوری دستیابی یا تمام اسکولوں میں بیک وقت تعمیراتی کام شروع ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ عملی پیش رفت کے لیے صوبائی حکومت کو ترجیحات طے کرنا، خطرے کی شدت کے لحاظ سے عمارتوں کی درجہ بندی کرنا اور بجٹ و ترقیاتی پروگرام کے ذریعے فنڈنگ مہیا کرنا ہوگی۔

تعلیمی عمارتوں کی حالت کا براہ راست تعلق اسکولوں میں حاضری، تدریسی ماحول اور والدین کے اعتماد سے بھی ہے۔ دور دراز اور نسبتاً کم وسائل والے علاقوں میں خراب عمارتیں پہلے سے موجود تعلیمی مشکلات کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ بارش، برف باری یا دیگر موسمی حالات کے دوران کمزور ڈھانچے طلبہ اور عملے کے لیے اضافی خطرہ بن سکتے ہیں۔

محکمہ تعلیم کے لیے اہم مرحلہ صرف مرمت کے لیے فنڈز حاصل کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ تعمیراتی معیار، نگرانی اور منصوبوں کی تکمیل مقررہ معیار کے مطابق ہو۔ بڑے پیمانے پر بحالی کے پروگرام میں انجینئرنگ سروے، ٹھیکوں کی شفافیت اور مکمل ہونے والے کام کا آزادانہ معیار جانچنا بھی اہم ہوگا۔

صوبے میں ہزاروں اسکول عمارتوں کی خستہ حالت ظاہر کرتی ہے کہ تعلیمی انفراسٹرکچر میں دیکھ بھال اور بروقت سرمایہ کاری کی مستقل ضرورت موجود ہے۔ 16.2 ارب روپے کی مطلوبہ رقم ایک تخمینہ ہے؛ اصل بہتری کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت کتنے وسائل مختص کرتی ہے، سب سے زیادہ خطرے والی عمارتوں کو کتنی جلد ترجیح دی جاتی ہے اور تعمیر و مرمت کے منصوبے کس رفتار اور معیار سے مکمل ہوتے ہیں۔