اسلام آباد: انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کے خلاف سکیورٹی بریچ مقدمے کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں مکمل ہو گیا ہے، جس کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت کے مطابق فیصلہ 29 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔ دونوں ملزمان نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات ریکارڈ کرائے جبکہ سرکاری وکیل کے حتمی دلائل بھی مکمل ہوئے۔
یہ مقدمہ 2024 کے ایک واقعے سے متعلق ہے جس میں استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ پر رکاوٹیں ہٹائیں اور عوامی بے امنی پر اکسانے سے متعلق کارروائی کی۔ دونوں کو 7 اکتوبر کو اس مقدمے میں فرد جرم سنائی گئی تھی۔ الزامات ابھی عدالتی فیصلے کے منتظر ہیں اور انہیں ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ٹرائل مکمل ہونے سے ایک روز قبل ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 19 اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں مقدمے کی کارروائی روکنے سے انکار کیا گیا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سے قبل انسداد دہشت گردی عدالت کے 10 اکتوبر کے حکم کے خلاف ان کی اپیلیں سنیں، جن میں فرد جرم اور دہشت گردی سے متعلق دفعات شامل کرنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے۔
دونوں وکلا جنوری سے مختلف مقدمات کے سلسلے میں عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ انہیں 23 جنوری کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر احتجاج اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی سے متعلق مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس گرفتاری پر حقوق کی تنظیموں، سیاست دانوں اور صحافیوں کی جانب سے منصفانہ ٹرائل کے حق سے متعلق تحفظات بھی سامنے آئے تھے۔
ایک الگ سوشل میڈیا پوسٹس مقدمے میں سیشن عدالت نے انہیں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت سزا سنائی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے 17 ستمبر کو وہ سزائیں معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا، جو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلوں کے حتمی فیصلے سے مشروط تھا۔ چند گھنٹوں بعد پولیس نے انہیں موجودہ سکیورٹی بریچ مقدمے میں دوبارہ گرفتار کیا۔
تازہ پیش رفت کا قانونی مفہوم صرف یہ ہے کہ اس مخصوص مقدمے میں شہادت، ملزمان کے بیانات اور حتمی دلائل کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور انسداد دہشت گردی عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا ہے۔ عدالت نے ابھی جرم یا بے گناہی کا حتمی تعین نہیں کیا، اس لیے 29 اکتوبر کو متوقع فیصلے سے پہلے استغاثہ کے الزامات کو الزامات ہی کے طور پر دیکھا جائے گا۔
