اسلام آباد: قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2020-21 سے 2024-25 تک پانچ برسوں کے دوران مجموعی طور پر 11.047 ٹریلین روپے مالیت کی ٹیکس چھوٹ دی گئی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق اس مدت میں مختلف ٹیکس زمروں میں رعایتیں اور استثنیٰ شامل رہے۔
ایوان کو فراہم کردہ تفصیلات میں 580 ارب روپے انکم ٹیکس، 1.274 ٹریلین روپے سیلز ٹیکس اور 499 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی سے متعلق چھوٹ کے اعداد بھی شامل تھے، جبکہ مجموعی 11.047 ٹریلین روپے کا عدد پانچ مالی سالوں میں مختلف اقسام کی ٹیکس رعایتوں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ معلومات پارلیمانی کارروائی کے دوران سامنے آئیں اور ان کا تعلق سرکاری مالیاتی پالیسی اور محصولات کے نظام سے ہے۔
اسی اجلاس میں ایل پی جی کی بڑھتی قیمتوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت کم آمدنی والے اور مستحق صارفین کو ریلیف دینے کے لیے ایک جامع پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے پر دو سے تین اجلاس کر چکے ہیں اور مجوزہ پالیسی ایک سے دو دن میں حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ اوگرا کی جانب سے 280 روپے کی نوٹیفائیڈ شرح مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی پر لاگو ہوتی ہے، جبکہ درآمدی ایل پی جی کے لیے فی الحال ایسا یکساں طریقہ کار موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ایل پی جی کی قیمت بھی سعودی آرامکو کے بین الاقوامی کنٹریکٹ پرائس سے منسلک ہے اور عالمی معیار 705 ڈالر فی ٹن تک پہنچنے سے قیمتوں پر دباؤ آیا ہے۔
حکومت متبادل سپلائی کے لیے عمان اور سعودی عرب سمیت دیگر ذرائع سے درآمدی انتظامات کا جائزہ بھی لے رہی ہے۔ وزیر کے مطابق زمینی سرحدوں کے ذریعے رسد میں رکاوٹوں اور اضافی لاگت کے مسئلے کو بھی نئی پالیسی میں دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اور درآمدی ایل پی جی کو مارکیٹ میں الگ الگ انداز سے برتنے میں عملی مشکلات موجود ہیں۔
ایوان کو یہ بھی بتایا گیا کہ قطر سے گیس کی فراہمی میں تقریباً 900 ملین مکعب فٹ یومیہ کمی نے پاکستان کی گیس دستیابی کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث موجود وسائل کی راشننگ کرنا پڑی۔ سردیوں میں متبادل ایندھن کی طلب بڑھنے کے امکان کے پیش نظر ایل پی جی کی فراہمی اور قیمت دونوں پالیسی کا اہم حصہ بن گئے ہیں۔ مجوزہ ریلیف پالیسی ابھی زیر تیاری ہے؛ حکومت نے اس مرحلے پر سبسڈی کی حتمی شرح یا مستحق صارفین کے انتخاب کا مکمل طریقہ کار جاری نہیں کیا۔
