اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے مجموعی طور پر 750 ملین ڈالر کے دو مجوزہ پالیسی قرضوں کے طریقہ کار کو آگے بڑھانے کی منظوری دی ہے۔ سرکاری دستاویزات اور متعلقہ حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق 500 ملین ڈالر کا پروگرام وفاقی پنشن نظام میں اصلاحات جبکہ 250 ملین ڈالر کا پروگرام پائیدار پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔
منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین احسن اقبال کی سربراہی میں کانسیپٹ کلیئرنس کمیٹی نے ان پروگراموں کو طریقہ کار کے اگلے مرحلے میں لے جانے کی منظوری دی۔ اس مرحلے کے بعد حکومت اور منیلا میں قائم ایشیائی ترقیاتی بینک قرضوں کی شرائط، پالیسی اقدامات اور دیگر تفصیلات کو حتمی شکل دینے پر کام کریں گے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو رقم کی فوری وصولی یا مکمل قرض معاہدے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
مجوزہ 500 ملین ڈالر پنشن پروگرام کا مقصد وفاقی پنشن نظام کی مالی پائیداری، نظم و نسق، انتظام اور خدمات کی فراہمی بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اس میں پرانی پنشن ذمہ داریوں کو کم کرنے، ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن اسکیم کو فعال کرنے اور ملازمین کی شمولیت بہتر بنانے جیسے اہداف شامل ہیں۔ منصوبہ بندی کمیشن نے ماضی میں پنشن اصلاحات کے لیے لیے گئے قرضوں کے نتائج سے متعلق بھی سوال اٹھایا اور وزارت خزانہ سے سابق پروگراموں کے قابل پیمائش نتائج کی رپورٹ طلب کی۔
دوسرا 250 ملین ڈالر پروگرام وفاقی سطح پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ اس میں عوامی سرمایہ کاری اور پبلک فنانشل مینجمنٹ کے نظام بہتر بنانے کے اہداف شامل ہیں۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق 250 ملین ڈالر میں سے 200 ملین ڈالر نسبتاً مہنگی فنانسنگ جبکہ 50 ملین ڈالر رعایتی شرائط پر ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان اس سے قبل بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے لیے 250 ملین ڈالر کا بیرونی قرض لے چکا ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن نے سابق پروگرام کے اثرات کا جائزہ لینے اور نئے قرض میں رعایتی فنانسنگ کا حصہ بڑھانے کی تجویز دی، تاہم وزارت خزانہ کا مؤقف بتایا گیا کہ دستیاب رعایتی وسائل کا بڑا حصہ پہلے ہی دیگر منصوبوں کے لیے مختص ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ جون 2026 تک پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض 86.7 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا تھا، جو معیشت کے حجم کے تقریباً 68.3 فیصد کے برابر ہے، جبکہ مجموعی قرض اور واجبات تقریباً 100 ٹریلین روپے تھے۔ نئے مجوزہ قرضوں کے حتمی مالی اثرات ان کی شرائط، اجرا کے وقت اور اصلاحاتی اہداف پر عمل درآمد سے وابستہ ہوں گے۔

