اسلام آباد: قومی اسمبلی نے سات پرائیویٹ ممبرز بل منظور کر لیے ہیں، جن میں کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی بل 2026 بھی شامل ہے جو اہل کمپنیوں کے لیے اپنے منافع کا ایک فیصد سماجی بہبود، ماحول اور کمیونٹی ترقی سے متعلق سرگرمیوں پر خرچ کرنے کا قانونی فریم ورک قائم کرنے کی تجویز دیتا ہے۔ ایوان نے بلوں پر شق وار غور کے بعد انہیں منظور کیا۔

سی ایس آر بل کے اغراض و مقاصد کے مطابق پاکستان میں کمپنیوں کی سماجی ذمہ داری سے متعلق اخراجات بڑی حد تک رہنما اصولوں اور رضاکارانہ انتظامات کے تحت ہوتے ہیں۔ مجوزہ قانون اس عمل کو باقاعدہ اور قابل نفاذ بنانا چاہتا ہے تاکہ کاروباری ادارے محروم آبادیوں، ماحول کی بہتری اور پائیدار ترقی کے اہداف میں زیادہ منظم حصہ ڈالیں۔ بل کا دائرہ سیکشن 42 کمپنیوں سے آگے بینکاری شعبے اور سرکاری ملکیتی اداروں تک بڑھانے کی تجویز بھی رکھتا ہے۔

منظور ہونے والے دوسرے بلوں میں پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ترمیمی بل 2025، قانون شہادت ترمیمی بل 2026، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سینئر سٹیزنز ترمیمی بل 2025، ضابطہ فوجداری ترمیمی بل 2024، نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ ترمیمی بل 2025 اور کریمنل لا ترمیمی بل 2025 شامل ہیں۔

ایوان میں اینٹی ریپ انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ میں مجوزہ ترمیم پر بھی بحث ہوئی۔ پی ٹی آئی کی رکن شاندانہ گلزار نے سزا یافتہ جنسی مجرموں کی نگرانی اور دوبارہ جرم روکنے کے نظام میں خامیوں کی نشاندہی کی، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نیشنل پولیس بیورو پہلے ہی مجرموں کا ڈیجیٹل رجسٹر رکھتا ہے اور مجوزہ تبدیلیاں بعض موجودہ دفعات کو دہرا سکتی ہیں۔ بالآخر بل کو مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔

مزید چھ بل بھی متعلقہ کمیٹیوں کو بھیجے گئے، جن میں فیکٹریز، اسلام آباد رینٹ ریسٹرکشن، نیشنل ہائی ویز سیفٹی، ادائیگی اجرت اور فوجداری قوانین سے متعلق ترامیم شامل ہیں۔ قومی اسمبلی سے کسی پرائیویٹ ممبر بل کی منظوری مکمل قانون سازی کا آخری مرحلہ نہیں ہوتی؛ متعلقہ آئینی طریقہ کار کے تحت مزید پارلیمانی اور صدارتی مراحل درکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سی ایس آر کا ایک فیصد اصول ابھی تمام کمپنیوں پر نافذ شدہ قانونی ذمہ داری قرار نہیں دیا جا سکتا۔