اسلام آباد: حکومت نے قومی بچت کی متعدد اسکیموں پر منافع کی شرحوں میں ردوبدل کرتے ہوئے کئی اہم مصنوعات کی شرح بڑھا دی ہے۔ نئی شرحیں 21 اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہیں اور ان کا اطلاق متعلقہ قومی بچت سرٹیفکیٹس اور اکاؤنٹس پر مقررہ قواعد کے مطابق ہوگا۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق بہبود سیونگز سرٹیفکیٹس، پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹس اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹس پر سالانہ منافع کی شرح 12.72 فیصد سے بڑھا کر 12.96 فیصد کر دی گئی ہے۔ یہ اسکیمیں بالخصوص بزرگ شہریوں، پنشنرز اور شہدا کے اہل خانہ کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں، اس لیے شرح میں تبدیلی سے ان طبقات کی بچت پر حاصل ہونے والی آمدن براہ راست متاثر ہوگی۔

قومی بچت کی شرحیں وقتاً فوقتاً مارکیٹ میں شرح سود، حکومتی قرض گیری اور مالی حالات کے تناظر میں تبدیل کی جاتی ہیں۔ حالیہ فیصلے سے پہلے بھی رواں سال مختلف اسکیموں کی شرحوں میں کمی اور اضافہ کیا جا چکا ہے۔ اس لیے سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی سرٹیفکیٹ یا اکاؤنٹ میں نئی سرمایہ کاری سے پہلے متعلقہ اسکیم کی تازہ شرح، مدت، ٹیکس اور قبل از وقت رقم نکلوانے کے قواعد کی تصدیق کریں۔

شرح منافع میں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گھریلو بچت کرنے والے افراد مہنگائی اور مالیاتی پالیسی میں تبدیلیوں کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کا جائزہ لے رہے ہیں۔ قومی بچت کی اسکیمیں حکومت کی پشت پناہی کی وجہ سے روایتی طور پر کم خطرے والی سرمایہ کاری تصور کی جاتی ہیں، تاہم حقیقی منافع کا انحصار مہنگائی، قابل اطلاق ٹیکس اور سرمایہ کاری کی مدت پر بھی ہوتا ہے۔

نئی شرحوں کا عملی فائدہ ہر سرمایہ کار کے لیے اس کی منتخب اسکیم اور سرمایہ کاری کی شرائط کے مطابق مختلف ہوگا۔ قومی بچت کے صارفین کو ادائیگی یا سرمایہ کاری سے متعلق درست حساب کے لیے سرکاری مراکز یا تازہ نوٹیفکیشن سے شرح کی تصدیق کرنی چاہیے۔