چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ، تمام ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں کے لیے ایک یکساں قومی ای فائلنگ فریم ورک تیار کرنے کے سلسلے میں پنجاب بار کونسل اور اسلام آباد بار کونسل کے نمائندوں سے مشاورت کی ہے۔ ڈان کے مطابق 4 ستمبر 2026 کو سپریم کورٹ میں ہونے والا اجلاس قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے زیر نگرانی جاری مشاورتی عمل کا حصہ تھا۔ مجوزہ نظام ابھی تیاری اور جائزے کے مرحلے میں ہے؛ اسے ملک بھر میں نافذ شدہ پلیٹ فارم نہیں سمجھا جاسکتا۔

اجلاس میں مجوزہ ’’نیشنل اسٹینڈرڈائزڈ ای فائلنگ سسٹم‘‘ کا تصور پیش کیا گیا، جس کا مقصد مقدمات اور عدالتی دستاویزات کی الیکٹرانک جمع آوری کے لیے مختلف عدالتوں میں قواعد کے مطابق مشترک طریقہ بنانا ہے۔ عدالتی سطحوں پر الگ سافٹ ویئر، دستاویزی فارم یا تکنیکی تقاضے وکلا اور سائلین کے لیے پیچیدگی پیدا کرسکتے ہیں۔ یکساں سانچوں سے فائل کی ساخت، ضروری معلومات، دستاویز کے معیار اور کیس ٹریکنگ میں ہم آہنگی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بار اس نظام کی بنیادی صارف ہوگی، اس لیے وکلا کی عملی رائے ای فائلنگ کے سانچوں اور عمل درآمد کے لیے اہم ہے۔ پنجاب اور اسلام آباد بار کونسل کے نمائندوں نے الیکٹرانک کیس ریکارڈ، دستاویزات کی ڈیجیٹل جمع آوری، مقدمے کی پیش رفت دیکھنے، تکنیکی معاونت، وکلا و عملے کی تربیت، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق تجاویز دیں۔ اجلاس کی رپورٹ میں کسی مخصوص سافٹ ویئر فراہم کنندہ، لاگت یا نفاذی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

فیصلہ کیا گیا کہ تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرار، ہر صوبائی بار کونسل کے دو نامزد ارکان اور اسلام آباد بار کونسل کے دو نمائندوں پر مشتمل کمیٹی معیاری ای فائلنگ سانچوں کا جائزہ لے گی اور انہیں حتمی شکل دے گی۔ تیار شدہ سانچے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے سامنے غور اور پالیسی ہدایات کے لیے رکھے جائیں گے۔ اس مرحلے کے بعد بھی تکنیکی تیاری، قواعد میں ممکنہ تبدیلی، آزمائشی نفاذ اور صارف تربیت جیسے اقدامات درکار ہوسکتے ہیں۔

ای فائلنگ سے وکیل کو کاغذی درخواست کے ساتھ عدالت حاضر ہونے کی ضرورت بعض مراحل میں کم ہوسکتی ہے اور دستاویز جمع ہونے کا قابلِ تلاش ریکارڈ بن سکتا ہے۔ اسی طرح کیس نمبر، نقائص، سماعت اور حکم سے متعلق معلومات ایک مربوط نظام میں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ یہ متوقع فوائد ہیں؛ حقیقی رسائی اس بات پر منحصر ہوگی کہ کمزور انٹرنیٹ والے علاقوں، محدود ڈیجیٹل مہارت رکھنے والے صارفین اور خصوصی ضرورت رکھنے والے افراد کے لیے متبادل سہولت کیسے برقرار رکھی جاتی ہے۔

ڈیجیٹل عدالتی ریکارڈ میں رازداری، دستاویز کی اصلیت، صارف کی شناخت، سائبر سکیورٹی، بیک اپ، نظام کی بندش اور ثبوت کی قانونی حیثیت اہم معاملات ہیں۔ بار نمائندوں کی جانب سے ڈیٹا سکیورٹی اور تکنیکی مدد پر زور اسی وجہ سے اہم ہے۔ اگر نظام کے مختلف حصوں کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے تو آزمائشی نتائج کی بنیاد پر خامیوں کی اصلاح ممکن ہوگی، لیکن اجلاس نے کسی مخصوص پائلٹ عدالت یا مرحلے کی تفصیل جاری نہیں کی۔

یکساں قومی نظام کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر عدالت کے تمام قانونی قواعد ختم یا ایک جیسے ہوجائیں گے۔ فوجداری، دیوانی، آئینی اور دیگر مقدمات کے مختلف قانونی تقاضے برقرار رہیں گے؛ مجوزہ فریم ورک ان تقاضوں کے مطابق الیکٹرانک فائلنگ کے بنیادی سانچوں اور عمل میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ہے۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت چیف جسٹس کی بار نمائندوں سے مشاورت، قومی سطح کے ای فائلنگ تصور کی پیش کش، اور رجسٹرار و بار ارکان کی کمیٹی کے ذریعے سانچے حتمی بنانے کا فیصلہ ہے۔ ملک گیر نفاذ، لازمی استعمال، بجٹ اور آغاز کی تاریخ کے لیے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی اور متعلقہ عدالتوں کے آئندہ فیصلے ضروری ہوں گے۔