نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے راولپنڈی سرکل نے سیٹلائٹ ٹاؤن کی کمرشل مارکیٹ میں ایک مبینہ غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 61 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق کارروائی کے دوران 155 لیپ ٹاپ اور 71 موبائل فون بھی تحویل میں لیے گئے، جنہیں ڈیجیٹل فرانزک تجزیے کے لیے محفوظ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کال سینٹر مبینہ طور پر غیر ملکی شہریوں کو قرضوں کی وصولی کے نام پر دھمکانے اور ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
NCCIA کے ابتدائی بیان کے مطابق کارروائی خفیہ ذرائع سے ملنے والی معلومات کے بعد کی گئی۔ ایک ٹیم تشکیل دے کر مقام پر چھاپہ مارا گیا اور وہاں موجود افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ کچھ ملزمان خود کو ریکوری ایجنٹس ظاہر کر کے غیر ملکی شہریوں سے رقم وصول کرنے کی کوشش کرتے تھے اور مبینہ طور پر دباؤ یا دھمکیوں کا طریقہ اختیار کیا جاتا تھا۔ یہ تفصیل تفتیشی ادارے کے ابتدائی مؤقف پر مبنی ہے؛ گرفتار افراد کے خلاف الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
ضبط کیے گئے موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور ڈیجیٹل ڈیٹا کو اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ سائبر فراڈ کے مقدمات میں رابطوں، کال ریکارڈز، ادائیگیوں کے طریقوں، اسکرپٹس اور ممکنہ متاثرین کی شناخت کے لیے الیکٹرانک شواہد مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ NCCIA نے مقدمہ درج کر کے مزید تکنیکی تجزیہ اور تفتیش شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔ آئندہ کارروائی کا انحصار فرانزک نتائج، مالی ریکارڈ اور انفرادی ملزمان کے کردار سے متعلق شواہد پر ہوگا۔
یہ چھاپہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب ایجنسی نے ایک روز قبل کراچی میں بھی دو کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کی تھی، جہاں 70 سے زیادہ افراد کو مبینہ بین الاقوامی فراڈ اسکیموں میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ راولپنڈی کا کیس الگ واقعہ ہے اور اس میں مبینہ طریقۂ واردات قرض ریکوری کے نام پر غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنانے سے متعلق بتایا گیا ہے۔
NCCIA کے ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے غیر قانونی کال سینٹرز کو پاکستان کی ساکھ اور عوامی اعتماد کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سائبر فراڈ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ تاہم قانون کے تحت گرفتاری بذاتِ خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتی؛ حتمی ذمہ داری کا تعین تفتیش، پراسیکیوشن اور عدالت کے عمل کے بعد ہوگا۔ اس مرحلے پر تصدیق شدہ حقائق چھاپہ، 61 گرفتاریاں، ڈیجیٹل آلات کی ضبطی، مقدمے کا اندراج اور جاری فرانزک تفتیش تک محدود ہیں۔
