اسلام آباد: پاکستان کی نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (National CERT) نے ونڈوز سسٹمز کو نشانہ بنانے والی فشنگ اور میل ویئر مہم کے بارے میں ہائی الرٹ ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ادارے کی 2026 کی ایڈوائزریز فہرست میں اسے ایڈوائزری نمبر 22 کے طور پر درج کیا گیا ہے، جس کا عنوان واٹس ایپ ویب، واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ اور ای میل کے ذریعے ہدفی میل ویئر اور فشنگ سے متعلق ہے۔
نیشنل CERT کے مطابق حملہ آور ایسے پیغامات یا فائلیں استعمال کر سکتے ہیں جو بظاہر قابل اعتماد رابطوں یا معمول کی دستاویزات کی طرح نظر آئیں لیکن انہیں کھولنے سے ونڈوز کمپیوٹر متاثر ہو سکتا ہے۔ جیو نیوز نے ایڈوائزری کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نقصان دہ فائلیں ریموٹ رسائی، پاس ورڈ یا دوسری حساس معلومات کی چوری اور متاثرہ سسٹم کے مزید غلط استعمال کا راستہ کھول سکتی ہیں۔ یہ خطرہ ان افراد اور اداروں کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو واٹس ایپ یا ای میل کو دفتری رابطوں اور فائلوں کے تبادلے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
سرکاری سائبر ادارے نے صارفین کو غیر متوقع یا مشکوک attachments کھولنے سے گریز، بھیجنے والے کی شناخت کی الگ ذریعے سے تصدیق اور مشکوک ویب یا ڈیسک ٹاپ سیشن ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عمومی حفاظتی اصولوں میں آپریٹنگ سسٹم اور متعلقہ ایپلی کیشنز کو تازہ ترین سکیورٹی اپ ڈیٹس پر رکھنا، مضبوط منفرد پاس ورڈ استعمال کرنا اور دستیاب اضافی تصدیقی تحفظ فعال رکھنا بھی شامل ہے۔
نیشنل CERT کی سرکاری ویب سائٹ پر ایڈوائزری نمبر 22 کی موجودگی اس انتباہ کی بنیادی تصدیق کرتی ہے۔ ادارے کی ویب سائٹ پر 2026 کے دوران واٹس ایپ اکاؤنٹ ہائی جیکنگ، براؤزر یا ایکسٹینشن کمزوریوں اور دوسرے سائبر خطرات سے متعلق متعدد الگ ایڈوائزریز بھی درج ہیں، جس سے واضح ہے کہ تازہ الرٹ ایک مخصوص ہدفی میل ویئر و فشنگ مہم سے متعلق ہے اور اسے سابقہ واٹس ایپ اکاؤنٹ ہائی جیکنگ انتباہ کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔
صارفین کے لیے اہم عملی نکتہ یہ ہے کہ کسی فائل کا مانوس نام، آئیکن یا قابل اعتماد رابطے سے آنا بذاتِ خود اس کے محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں۔ اگر کسی مشکوک فائل کے کھلنے کے بعد غیر معمولی لاگ اِن، نئے سیشن، پاس ورڈ تبدیلی یا سسٹم رویہ سامنے آئے تو متاثرہ اکاؤنٹس کے credentials محفوظ ڈیوائس سے تبدیل کرنا، فعال سیشنز کا جائزہ لینا اور ادارہ جاتی ماحول میں آئی ٹی یا سکیورٹی ٹیم کو فوری اطلاع دینا ضروری ہے۔ نیشنل CERT پاکستان میں تنظیمی سائبر واقعات کی رپورٹنگ کے لیے اپنا سرکاری incident-reporting نظام بھی چلاتا ہے۔
