اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا 18واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ موسمی صورتحال، دریاؤں کے بہاؤ، درجہ حرارت کے رجحانات اور وفاقی و صوبائی اداروں کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔
این ڈی ایم اے کی بریفنگ کے مطابق اس وقت پاکستان پر کوئی فعال مون سون نظام اثر انداز نہیں ہو رہا اور آئندہ چند روز کے دوران نمایاں مون سون بارشوں کی توقع نہیں۔ تاہم مختلف علاقوں میں درجہ حرارت بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو گرمی سے وابستہ خطرات، پانی کی بڑھتی طلب اور زیادہ درجہ حرارت کے ممکنہ اثرات پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
اجلاس میں نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے موسم کی تازہ پیش گوئی، دریائی بہاؤ، ہائیڈرولوجیکل صورتحال اور آنے والے دنوں کے ممکنہ موسمی پیٹرن پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ بارشوں یا کسی فوری فعال سسٹم کی عدم موجودگی کے باوجود حساس علاقوں کی نگرانی کم نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ درجہ حرارت میں اضافہ مقامی سطح پر صحت، پانی کی فراہمی اور بجلی کی طلب جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے اپنی تیاریوں، دستیاب ہنگامی وسائل، ریسپانس کی صلاحیت اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کاری کے انتظامات سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ وفاقی محکموں اور ریسپانس ایجنسیوں کے نمائندوں نے بھی اپنی عملی تیاری کی صورتحال پیش کی۔ کمیٹی نے مسلسل موسمی مانیٹرنگ، بروقت وارننگز اور ایڈوائزریز، رابطہ نظام کی دستیابی اور ہنگامی اداروں کی آپریشنل تیاری برقرار رکھنے کو ترجیح قرار دیا۔
چیئرمین اجلاس نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر رابطہ کاری مؤثر رکھی جائے اور کسی بھی ممکنہ موسمی تبدیلی کے جواب میں پیشگی اقدامات کیے جائیں۔ این ڈی ایم اے نے کہا کہ این ای او سی ملک کی موسمی اور ہائیڈرولوجیکل صورتحال پر مسلسل نظر رکھے گا اور ضرورت کے مطابق متعلقہ اداروں اور عوام کے لیے بروقت ایڈوائزریز جاری کی جائیں گی۔
مون سون 2026 کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں موسمی شدت اور درجہ حرارت کے اتار چڑھاؤ کے تناظر میں یہ اجلاس اس بات کی یاد دہانی ہے کہ آفات سے نمٹنے کی تیاری صرف شدید بارش یا سیلاب کے وقت تک محدود نہیں رہتی۔ بڑھتی گرمی، پانی کی ضرورت اور شہری و دیہی علاقوں میں مقامی سطح کے موسمی خطرات بھی ہنگامی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں، اس لیے حکام نے نگرانی اور باہمی رابطے کو مسلسل فعال رکھنے پر زور دیا ہے۔




