اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے متعدد علاقوں میں اگلے 72 گھنٹوں کے دوران شدید بارش اور اچانک سیلاب کے خطرے کا انتباہ جاری کیا ہے۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے بھی 3 ستمبر کی شام سے 5 ستمبر 2026 تک بالائی دریائی کیچمنٹس، اسلام آباد، کشمیر، گلگت بلتستان، بالائی پنجاب اور بالائی خیبر پختونخوا میں کہیں کہیں شدید سے بہت شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق پہاڑی علاقوں میں تیز بارش سے دریاؤں، برساتی نالوں اور مقامی آبی گزرگاہوں کے بہاؤ میں اچانک اضافہ ہو سکتا ہے۔ گلگت بلتستان میں گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، استور، اسکردو اور شگر کو ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر میں باغ، پونچھ، مظفرآباد، حویلی، بھمبر، سدھنوتی، میرپور اور کوٹلی کے لیے بھی احتیاطی ہدایات دی گئی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، سوات، باجوڑ، مہمند، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور میں اچانک سیلاب کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے نوشہرہ، پشاور، صوابی اور مردان کے نشیبی حصوں میں شہری سیلاب یا پانی جمع ہونے کا خطرہ بھی بتایا ہے۔ یہ مقامات خطرے کی پیش گوئی میں شامل ہیں؛ انتباہ جاری ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ضلع میں لازماً سیلاب آئے گا۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے سرکاری بلیٹن نمبر 081/26 کے مطابق 3 ستمبر کی صبح بیشتر بڑے دریا معمول یا کم درجے کے بہاؤ پر تھے، جبکہ دریائے سندھ کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر کم درجے کے سیلاب میں تھا۔ بلیٹن نے 4 اور 5 ستمبر کے دوران سندھ، جہلم، چناب اور راوی کے بہاؤ میں معتدل اضافے کی توقع ظاہر کی، اور خیبر پختونخوا کے ندی نالوں اور دریائے کابل کے معاون دریاؤں میں فلیش فلڈنگ کا امکان بتایا۔

اسی سرکاری پیش گوئی میں اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال میں 4 سے 5 ستمبر کے دوران اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں تیز بارش کی صورت میں نالہ لئی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بلیٹن کے وقت تربیلا آبی ذخیرہ اپنی زیادہ سے زیادہ کنزرویشن سطح پر تھا، جبکہ منگلا تقریباً 78 فیصد بھرا ہوا تھا؛ یہ اعداد 3 ستمبر کی صبح کی سرکاری پیمائش ہیں اور وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں۔

این ڈی ایم اے نے متعلقہ صوبائی اور ضلعی اداروں کو حساس مقامات پر ضروری وسائل پہلے سے پہنچانے، انخلا کے محفوظ انتظامات تیار رکھنے اور سڑکوں و پلوں کی نگرانی بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں شدید بارش کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور رابطہ سڑکیں بند ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے، خصوصاً ان راستوں پر جہاں ڈھلوانیں پہلے سے غیر مستحکم ہوں۔

شہریوں، سیاحوں اور مسافروں کو دریا کناروں، برساتی نالوں، تیز بہاؤ والی گزرگاہوں اور نشیبی مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ پانی سے ڈھکی سڑک، پل یا نالہ پیدل یا گاڑی میں عبور نہ کیا جائے، کیونکہ بظاہر کم گہرا لیکن تیز بہاؤ بھی لوگوں اور گاڑیوں کو بہا سکتا ہے۔ سفر سے پہلے تازہ موسم، سڑک اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات دیکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے ہفتہ وار منظرنامے کے مطابق 5 ستمبر کے بعد مون سون سرگرمی کم ہونے کا امکان ہے، تاہم اس وقت تک مقامی حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ اس لیے خطرے کی سطح کا درست تعین ہر علاقے میں تازہ بارش، آبی بہاؤ اور ضلعی انتباہات کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ قومی پیش گوئی کو ہر مقام پر یکساں نتیجہ سمجھ کر۔