اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، نیپرا، نے بجلی کی مجوزہ وہیلنگ نیلامی کے قواعد میں ترامیم منظور کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں حصہ لینے والے شمسی اور بادی توانائی منصوبوں کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم، بیس، لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ ترامیم انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر آف پاکستان، آئی ایس ایم او، کی تجویز پر بعض تبدیلیوں کے ساتھ منظور کی گئیں۔

منظور شدہ شرط کے مطابق کسی شمسی یا بادی منصوبے کو نیلامی میں اہل ہونے کے لیے اپنے پیداواری مقام پر ایسا بیٹری نظام نصب کرنا ہوگا جس کی فرم صلاحیت متعلقہ قابلِ تجدید پلانٹ کی فرم صلاحیت کے کم از کم 10 فیصد کے برابر ہو۔ بیٹری اور پیداواری منصوبے کی فرم صلاحیت کا تعین مارکیٹ کمرشل کوڈ اور متعلقہ آپریٹنگ طریقۂ کار کے تحت ہوگا۔ منصوبہ ساز کم از کم حد سے زیادہ اسٹوریج بھی نصب کرسکتے ہیں۔

پاور ڈویژن کی منظوری سے پہلی نیلامی کا حجم پہلے تجویز کردہ 200 میگاواٹ سے بڑھا کر 400 میگاواٹ کر دیا گیا ہے۔ آئی ایس ایم او کے تخمینے کے مطابق 400 میگاواٹ نیلامی میں 10 فیصد شرط تقریباً 40 میگاواٹ فرم بیٹری صلاحیت اور قابلِ اطلاق ڈسچارج مدت کے تحت لگ بھگ 160 میگاواٹ گھنٹے ذخیرہ شدہ توانائی کے برابر ہوسکتی ہے۔ یہ تخمینہ ہے؛ اصل مقدار کامیاب بولیوں اور ہر منصوبے کی تکنیکی ساخت سے طے ہوگی۔

نیپرا نے 10 فیصد کو پہلے مرحلے کی ابتدائی شرط قرار دیا ہے، مستقل یا خودکار طور پر بڑھنے والی حد نہیں۔ مشاورت میں کئی فریقوں نے 20 فیصد بیٹری شرط کی حمایت کی تھی، مگر ریگولیٹر نے کہا کہ زیادہ لازمی حد ابتدائی سرمایہ لاگت اور نفاذ کے خطرات بڑھا کر چھوٹے شرکا کی شرکت کم کرسکتی ہے۔ آئی ایس ایم او کو پہلی درخواستِ تجاویز جاری کرنے سے پہلے معاون مالی ماڈل شائع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

آئی ایس ایم او کی ماڈلنگ کے مطابق 10 فیصد بیٹری اسٹوریج سے نظام کی سطح پر بادی توانائی کی کٹوتی تقریباً 0.3 فیصد پوائنٹ اور شمسی توانائی کی کٹوتی 1.1 فیصد پوائنٹ تک کم ہوسکتی ہے۔ ماڈل نے معمولی قیمت اثر اور مثبت قابلِ اعتماد فوائد کی نشاندہی کی، مگر نظامی اعتبار سے قابلِ اعتماد ہونے کے فائدے کی مکمل عددی قدر جاری نہیں کی گئی۔ منصوبہ سطح پر اسٹوریج سے بجلی کی کٹوتی کا خطرہ کم اور ایکویٹی منافع بہتر ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے؛ یہ ماڈلنگ کے نتائج ہیں، عملی نیلامی یا آپریشن کے ثابت شدہ نتائج نہیں۔

بیٹری شرط کا مقصد قابلِ تجدید بجلی کے باعث پیدا ہونے والے ’ڈک کرو‘ مسئلے کو کم کرنا ہے، جس میں دن کے وقت شمسی پیداوار کے باعث گرڈ طلب نیچے جاتی اور شام کو صارفین کی واپسی سے طلب تیزی سے بڑھتی ہے۔ بیٹریاں اضافی توانائی ذخیرہ کرکے زیادہ طلب کے وقت فراہم کرسکتی ہیں، تاہم ان کی کارکردگی لاگت، دستیابی، چارج و ڈسچارج رویے اور نیٹ ورک کی تکنیکی ضروریات پر منحصر ہوگی۔

پہلی نیلامی کے لیے درخواستِ تجاویز شائع ہونے کے بعد بولیاں جمع کرانے کی مدت دو ماہ اور ناقابلِ توسیع ہوگی۔ بعد کی نیلامیوں میں یہ مدت ایک ماہ رکھی گئی ہے۔ اعتراضات کے لیے تین رکنی شکایت ازالہ کمیٹی بنے گی جس کی سربراہی پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر کریں گے اور آئی ایس ایم او بورڈ کے دو آزاد ڈائریکٹر شامل ہوں گے۔ ابتدائی اہل فہرست کے بعد پانچ کاروباری دنوں میں شکایت دی جاسکے گی، جبکہ کمیٹی کو چار ہفتوں میں فیصلہ کرنا ہوگا۔

ملک میں مجموعی طور پر 800 میگاواٹ قابلِ تجدید صلاحیت کی نیلامی کا خاکہ زیرِ عمل ہے، مگر تازہ منظوری پہلی 400 میگاواٹ بلاک کے قواعد سے متعلق ہے۔ کامیاب بولی دہندگان، حتمی نرخ، منصوبہ مقامات اور عملی آغاز کا تعین آئندہ درخواستِ تجاویز اور نیلامی کے بعد ہوگا۔