نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، نیپرا، نے کے الیکٹرک کو کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ روکنے اور بجلی کی بندش کے منظور شدہ شیڈول پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ریگولیٹر کی مداخلت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب شہر کے مختلف علاقوں سے طویل اور غیر متوقع بجلی بندش کی شکایات رپورٹ ہو رہی ہیں۔
نیپرا کے قواعد کے تحت بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو منصوبہ بند بندش یا لوڈشیڈنگ کے بارے میں صارفین کو مناسب اطلاع دینا اور مقررہ معیار کے مطابق فراہمی برقرار رکھنا ہوتی ہے۔ غیر اعلانیہ بندش صارفین، کاروبار، صنعت، پانی کی فراہمی اور گھریلو زندگی کو متاثر کرتی ہے، خصوصاً گرم موسم میں جب بجلی کی طلب زیادہ ہوتی ہے۔
ریگولیٹر نے کے الیکٹرک سے بجلی کی طلب و رسد، فیڈرز کی صورتحال اور لوڈشیڈنگ کے طریقہ کار سے متعلق قواعد کی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ بجلی کمپنی ماضی میں بعض علاقوں میں زیادہ نقصانات، بجلی چوری، تکنیکی خرابیوں اور سسٹم کی محدود گنجائش کو لوڈ مینجمنٹ کی وجوہات میں شمار کرتی رہی ہے۔ تاہم ریگولیٹری تقاضوں کے تحت کسی بھی بندش کو مقررہ اصولوں اور صارفین کے حقوق کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
پاکستان میں مجموعی نصب شدہ بجلی پیداوار اور بعض اوقات دستیاب اضافی صلاحیت کے باوجود مقامی سطح پر لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ترسیلی رکاوٹوں، گردشی قرضے، ایندھن لاگت، ریکوری کے مسائل اور تقسیم کے نقصانات سے جڑا ہوا ہے۔ کراچی کا بجلی نظام بڑی حد تک کے الیکٹرک کے زیر انتظام ہے، جو اپنی پیداوار کے ساتھ قومی گرڈ سے بھی بجلی حاصل کرتی ہے۔
نیپرا کی ہدایت انتظامی اور ریگولیٹری حکم ہے؛ اس کے عملی اثر کا انحصار کے الیکٹرک کی تعمیل اور ریگولیٹر کی نگرانی پر ہوگا۔ صارفین کے لیے اہم پہلو یہ ہے کہ اعلان کردہ شیڈول اور حقیقی بندش کے درمیان فرق کم ہو اور ہنگامی تکنیکی خرابی کے علاوہ بجلی کی بندش پیشگی معلومات کے ساتھ ہو۔ اگر خلاف ورزیاں جاری رہتی ہیں تو نیپرا اپنے قانونی اختیارات کے تحت مزید کارروائی کر سکتی ہے۔




