پاکستانی حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز، ای پی زیڈز، سے مقامی مارکیٹ میں مصنوعات کی فروخت پر پابندی سے متعلق پروگرام شرط واپس لینے پر قائل نہیں کر سکی۔ معاملہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ٹیکس مراعات، برآمدی پالیسی اور خصوصی اقتصادی انتظامات کو زیادہ یکساں بنانے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔

ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز بنیادی طور پر برآمدی پیداوار کے لیے قائم کیے جاتے ہیں اور وہاں کام کرنے والی کمپنیوں کو مخصوص کسٹمز، ٹیکس اور درآمدی سہولتیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ ماضی میں بعض حالات میں ان یونٹس کو اپنی پیداوار کا محدود حصہ پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرط کا مقصد ایسی رعایتی پیداوار کو اندرون ملک عام کاروباروں کے ساتھ غیر مساوی مسابقت سے روکنا بتایا جاتا ہے۔

حکومت اور صنعت سے وابستہ حلقوں کو خدشہ ہے کہ مکمل پابندی بعض موجودہ سرمایہ کاروں کے کاروباری ماڈل کو متاثر کر سکتی ہے، خصوصاً ایسے شعبوں میں جہاں برآمدی آرڈرز میں کمی کے دوران محدود مقامی فروخت کمپنیوں کو پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ دوسری طرف رعایتی ٹیکس یا کسٹمز نظام کے تحت تیار ہونے والی اشیا کی مقامی فروخت سے عام مقامی صنعت کے لیے مسابقتی عدم توازن پیدا ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔

پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پروگرام میں ٹیکس اخراجات کم کرنے، استثنیٰ محدود کرنے اور مختلف شعبوں کے لیے الگ مراعات کو مرحلہ وار ختم یا منظم کرنے کے وعدے کر چکا ہے۔ ای پی زیڈز کی مقامی فروخت کا معاملہ اسی وسیع اصلاحاتی ایجنڈے سے جڑا ہے۔ حکومت کی جانب سے شرط میں تبدیلی کی کوشش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پالیسی ساز برآمدی سرمایہ کاری کو برقرار رکھتے ہوئے پروگرام کی شرائط پوری کرنے کے لیے درمیانی راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

فی الحال رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے پابندی واپس لینے پر اتفاق نہیں کیا، اس لیے موجودہ پروگرام ذمہ داری برقرار ہے۔ تاہم پروگرام جائزوں کے دوران پالیسی کی تفصیلات پر مزید تکنیکی بات چیت ممکن ہو سکتی ہے۔ کسی تبدیلی کی صورت میں حکومت کو آئی ایم ایف کی منظوری کے ساتھ متعلقہ کسٹمز اور ٹیکس قواعد بھی تبدیل کرنا ہوں گے۔ اس وقت تک کاروباری اداروں کے لیے نافذ قواعد اور پروگرام شرائط ہی قابل عمل رہیں گی۔