وفاقی حکومت نے سویڈن کے ساتھ موجود دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے، بی آئی ٹی، کو ختم کرنے کے لیے دیا گیا سابق نوٹس واپس لینے اور معاہدے کی شرائط پر دوبارہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاروں کے تحفظ اور ریاست کے ریگولیٹری اختیارات کے درمیان زیادہ متوازن قانونی فریم ورک تیار کرنا بتایا جا رہا ہے۔
دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے عام طور پر ایک ملک کے سرمایہ کاروں کو دوسرے ملک میں سرمایہ کاری کے دوران امتیازی سلوک، غیر قانونی ضبطی اور بعض دیگر سرکاری اقدامات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کئی پرانے معاہدوں میں سرمایہ کار اور ریاست کے درمیان بین الاقوامی ثالثی کی شقیں بھی شامل ہوتی ہیں، جن کے تحت غیر ملکی سرمایہ کار میزبان حکومت کے خلاف بین الاقوامی فورمز سے رجوع کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے گزشتہ برسوں میں اپنے متعدد پرانے سرمایہ کاری معاہدوں کا جائزہ لیا ہے کیونکہ حکومت کو بین الاقوامی ثالثی مقدمات اور ممکنہ مالی ذمہ داریوں سے متعلق خدشات رہے ہیں۔ سویڈن کے ساتھ معاہدے کے معاملے میں اب مکمل خاتمے کے بجائے دوبارہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ اس پالیسی میں نسبتاً لچکدار طریقہ ظاہر کرتا ہے۔
نئے مذاکرات میں ممکنہ طور پر سرمایہ کاری کی تعریف، ریاستی اقدامات کے تحفظ، تنازعات کے حل، قومی سلامتی اور عوامی مفاد میں ریگولیشن کے اختیارات جیسے قانونی نکات زیر غور آئیں گے۔ تاہم حکومت نے ابھی نئے معاہدے کا مکمل متن یا مذاکرات کی حتمی مدت عوامی سطح پر جاری نہیں کی، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ معاہدے کی کون سی شقیں لازماً تبدیل ہوں گی۔
سویڈن یورپی یونین کا رکن اور پاکستان کے لیے تجارت و سرمایہ کاری کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے۔ ایک جدید اور متوازن سرمایہ کاری معاہدہ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو زیادہ قانونی وضاحت دے سکتا ہے، مگر اس کا عملی اثر حتمی متن اور نفاذ پر منحصر ہوگا۔ موجودہ فیصلہ فوری طور پر نیا معاہدہ نافذ نہیں کرتا بلکہ منسوخی کے بجائے مذاکراتی عمل جاری رکھنے کی حکومتی پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔




