پاکستان کی وزارت خزانہ نے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ سے فنڈز حاصل کرنے کے لیے امریکی ڈالر میں دو حصوں پر مشتمل بینچ مارک یورو بانڈ کے ممکنہ اجرا کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ میڈیم ٹرم نوٹ، ایم ٹی این، پروگرام کو بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ حکومت عالمی سرمایہ کاروں تک منظم انداز میں رسائی حاصل کر سکے۔
بینچ مارک بانڈ سے مراد عموماً اتنے حجم کا بین الاقوامی قرض اجرا ہوتا ہے جس میں عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی مناسب دلچسپی اور ثانوی مارکیٹ میں تجارت کی گنجائش پیدا ہو۔ دو حصوں، یا ڈوئل ٹرانچ، کا ڈھانچہ مختلف مدت یا شرائط کے بانڈز کے ذریعے سرمایہ کاروں کی الگ ترجیحات کو ہدف بنا سکتا ہے۔ تاہم حکومت نے ابھی حتمی حجم، مدت، شرح منافع یا اجرا کی تاریخ طے ہونے کا اعلان نہیں کیا۔
وزارت خزانہ اس عمل کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں، قانونی مشیروں اور دیگر پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والوں کا انتخاب کرے گی۔ کسی بھی حتمی بانڈ اجرا سے پہلے عالمی مارکیٹ حالات، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ، امریکی شرح سود، سرمایہ کاروں کی طلب اور ملک کے بیرونی مالیاتی منظرنامے کا جائزہ اہم ہوگا۔
پاکستان کو آنے والے برسوں میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے کثیرالجہتی اداروں، دوطرفہ شراکت داروں، کمرشل بینکوں اور بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ سمیت مختلف ذرائع استعمال کرنا ہوتے ہیں۔ یورو بانڈ عالمی سرمایہ کاروں سے براہ راست قرض لینے کا ذریعہ ہے، لیکن اس کی لاگت ملک کے کریڈٹ رسک اور عالمی شرح سود سے جڑی ہوتی ہے۔
عمل شروع ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بانڈ فوری طور پر جاری ہو گیا ہے یا کوئی مخصوص رقم حاصل ہو چکی ہے۔ حکومت مارکیٹ حالات مناسب نہ ہونے کی صورت میں اجرا کی مدت یا حجم تبدیل بھی کر سکتی ہے۔ آئندہ مراحل میں بینکوں کی تقرری، سرمایہ کاروں سے رابطہ، ممکنہ روڈ شوز، قیمت کا تعین اور حتمی اجرا شامل ہو سکتے ہیں۔ کامیاب بانڈ فروخت پاکستان کے بیرونی مالی وسائل میں اضافہ کرے گی، مگر ساتھ مستقبل کی سود اور اصل زر کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی پیدا ہوگی۔




