اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، نیپرا، نے جولائی 2026 کی بجلی کھپت کے لیے 2 روپے 5.81 پیسے فی یونٹ مثبت فیول چارج ایڈجسٹمنٹ، ایف سی اے، منظور کر لی ہے۔ ریگولیٹر کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ رقم ایکس واپڈا تقسیم کار کمپنیوں اور کے الیکٹرک کے قابلِ اطلاق صارفین سے ستمبر 2026 کے بلنگ مہینے میں وصول کی جائے گی اور بل پر الگ مد کے طور پر دکھائی جائے گی۔

فیصلے میں جولائی کے لیے بجلی کی حقیقی فیول لاگت 9 روپے 15.11 پیسے فی کلوواٹ گھنٹہ مقرر کی گئی، جبکہ حوالہ جاتی فیول لاگت 7 روپے 9.29 پیسے تھی۔ دونوں کے درمیان 2 روپے 5.81 پیسے کا فرق مثبت ایف سی اے بنا۔ اس حساب کا تعلق ایندھن اور بجلی خریداری کے اس ماہ کے اصل اخراجات سے ہے؛ یہ مستقل بنیادی ٹیرف میں اسی مقدار کے اضافے کا اعلان نہیں ہے۔

ایڈجسٹمنٹ جولائی میں بل کیے گئے یونٹس کی بنیاد پر لگے گی، چاہے وصولی ستمبر کے بل میں ہو۔ جن صارفین کے ستمبر کے بل نیپرا نوٹیفکیشن سے پہلے جاری ہو چکے ہوں، ان سے رقم اگلے بلنگ مہینے میں وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تقسیم کار کمپنیوں اور کے الیکٹرک کو رقم، متعلقہ یونٹس اور ایف سی اے کی مد واضح طور پر درج کرنا ہوگی تاکہ صارف اصل استعمال اور بعد کی ایڈجسٹمنٹ میں فرق دیکھ سکے۔

لائف لائن صارفین، ایسے پری پیڈ صارفین جنہوں نے باقاعدہ پری پیڈ ٹیرف اختیار کیا ہے، اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشن اس مثبت ایف سی اے سے مستثنیٰ ہیں۔ نیپرا نے کہا کہ یہ ایڈجسٹمنٹ انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت آنے والی بجلی کھپت پر بھی لاگو ہوگی۔ کسی صارف کی حتمی ذمہ داری اس کی ٹیرف کیٹیگری، جولائی کے بل شدہ یونٹس اور نوٹیفکیشن میں دی گئی استثنائی شرائط سے طے ہوگی۔

وفاقی حکومت کی یکساں ایف سی اے پالیسی ہدایات کے تحت ایکس واپڈا ڈسکوز کے لیے طے شدہ یہی شرح اسی متعلقہ مدت میں کے الیکٹرک صارفین پر بھی نافذ ہوگی۔ نیپرا نے تمام کمپنیوں کو قابلِ اطلاق عدالتی احکامات کی پابندی کا حکم دیا ہے، اس لیے کسی مخصوص صارف گروپ یا زیرِ سماعت معاملے پر عدالت کی ہدایت موجود ہو تو نفاذ اسی کے مطابق ہوگا۔

ریگولیٹر نے اس سے الگ دوسری سہ ماہی کے لیے 52 پیسے فی یونٹ مثبت سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، کیو ٹی اے، کی بھی اجازت دی ہے، جسے تیسری سہ ماہی میں وصول کیا جانا ہے۔ ایف سی اے اور کیو ٹی اے دو الگ ریگولیٹری مدیں ہیں: پہلی جولائی کی حقیقی فیول لاگت کے فرق سے متعلق ہے، جبکہ دوسری سہ ماہی سطح کے منظور شدہ اخراجات سے جڑی ہے۔ ان دونوں کو ہر بل اور ہر مدت میں بلاشرط جمع کرکے مستقل 2.58 روپے بنیادی اضافہ قرار دینا درست نہیں؛ حتمی اثر بلنگ شیڈول اور صارف کی کیٹیگری سے نکلے گا۔

فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کا طریقۂ کار حوالہ جاتی لاگت اور ماہانہ حقیقی لاگت میں فرق صارفین تک منتقل کرتا ہے۔ حقیقی لاگت زیادہ ہو تو مثبت ایڈجسٹمنٹ وصول ہوتی ہے، جبکہ کم ہونے کی صورت میں منفی ایڈجسٹمنٹ یا رعایت سامنے آسکتی ہے۔ جولائی کے تازہ فیصلے میں فرق مثبت رہا، اس لیے اہل صارفین کے بل بڑھیں گے۔

صارفین کو اپنے ستمبر یا اس کے بعد متعلقہ بل میں جولائی کے یونٹس، ایف سی اے شرح اور استثنا کی درست عکاسی دیکھنی چاہیے۔ غلط کیٹیگری، یونٹس یا دوہری وصولی کی صورت میں متعلقہ تقسیم کار کمپنی کے شکایتی نظام اور نیپرا کے باضابطہ طریقۂ کار سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔