نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے قابلِ تجدید بجلی کی آئندہ مسابقتی نیلامی میں ونڈ اور سولر منصوبوں کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم، بی ای ایس ایس، لازمی رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ ڈان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی ویلنگ آکشن پراسیس کے قواعد میں ترامیم کے ذریعے کی گئی، جس کے بعد انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر، اسمو، 800 میگاواٹ کے مجوزہ قابلِ تجدید پروگرام میں سے پہلے 400 میگاواٹ بلاک کے لیے درخواستِ تجاویز جاری کرسکے گا۔ نیلامی کا اعلان اور بجلی کی حقیقی پیداوار دو الگ مراحل ہیں؛ منصوبے کی کمیشننگ بعد کی بولی، معاہدے، مالی بندش اور تعمیر سے مشروط ہوگی۔
منظور شدہ شرط کے مطابق جو بولی دہندہ سولر یا ونڈ ٹیکنالوجی استعمال کرنا چاہے گا، اسے پیداواری مقام پر ایسی بیٹری سہولت رکھنا ہوگی جس کی فرم صلاحیت متعلقہ سولر یا ونڈ پلانٹ کی فرم صلاحیت کے کم از کم 10 فیصد کے برابر ہو۔ یہ شرح کم از کم حد ہے اور شرکا اپنی تجارتی و تکنیکی ضرورت کے مطابق زیادہ ذخیرہ بھی نصب کرسکتے ہیں۔ نیپرا کے فیصلے میں ہر منصوبے کے لیے بیٹری کی توانائی دورانیہ، یعنی کتنے گھنٹے بجلی فراہم کی جاسکے گی، یا مخصوص ٹیکنالوجی کی مکمل تفصیل رپورٹ میں بیان نہیں کی گئی۔
بیٹری ذخیرے کا مقصد دن کے مختلف اوقات میں قابلِ تجدید پیداوار اور صارف طلب کے درمیان فرق کم کرنا ہے۔ سولر بجلی دوپہر میں زیادہ دستیاب ہوسکتی ہے جبکہ شام کے وقت سورج غروب ہونے کے بعد گرڈ سے طلب اچانک بڑھتی ہے۔ اس رجحان کو توانائی شعبے میں ’’ڈک کرو‘‘ کہا جاتا ہے۔ بیٹری دن کی اضافی یا دستیاب بجلی محفوظ کرکے ضرورت کے وقت واپس نظام میں دے سکتی ہے، مگر اس کی حقیقی افادیت ذخیرہ دورانیے، چارج و ڈسچارج کارکردگی، مقام، گرڈ کنکشن اور آپریشنل ہدایات پر منحصر ہوگی۔
اسمو کی ماڈلنگ کے مطابق ایک حد تک بیٹری صلاحیت بڑھانے سے منصوبوں کے مالی نتائج بہتر ہوسکتے ہیں، جبکہ نجی شعبے کی مشاورت کے بعد 10 فیصد کو لازمی کم از کم شرط بنایا گیا۔ یہ ماڈلنگ متوقع مالی صورت پیش کرتی ہے؛ کسی بولی دہندہ کے منافع، حتمی ٹیرف یا صارف کے بل میں کمی کی ضمانت نہیں۔ بیٹری کی ابتدائی سرمایہ لاگت اور بعد کی تبدیلی یا دیکھ بھال بھی بولی کی قیمت اور منصوبے کی معاشی حیثیت پر اثر ڈال سکتی ہے۔
پہلی 400 میگاواٹ نیلامی کے لیے بولی دہندگان کو درخواستِ تجاویز شائع ہونے کے بعد دو ماہ میں اپنی پیشکش جمع کرانا ہوگی۔ نیپرا نے اس مدت کو مقرر اور ناقابلِ توسیع قرار دیا ہے۔ بعد کی نیلامیوں میں تجاویز جمع کرانے کی مدت ایک ماہ ہوگی۔ پہلی نیلامی کے لیے اضافی وقت کا مقصد نئے مسابقتی طریقے اور بیٹری شرط کے تحت شرکا کو تکنیکی و مالی تیاری کا موقع دینا بتایا گیا ہے۔ رواں ماہ درخواستِ تجاویز جاری کرنے کا منصوبہ ہے، لیکن خبر کے وقت حتمی دستاویز، بولی کی آخری تاریخ اور کامیاب کمپنیوں کے نام سامنے نہیں آئے تھے۔
قواعد میں نیلامی سے متعلق شکایات کے لیے تین رکنی ازالہ کمیٹی بنانے کی گنجائش بھی شامل کی گئی ہے۔ کمیٹی کی سربراہی پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کریں گے، جبکہ اسمو کے بورڈ کے دو آزاد ڈائریکٹر اس کے ارکان ہوں گے۔ پہلے اہلیت کی جانچ اور متعلقہ شکایات دونوں نیلامی کمیٹی کے دائرے میں تھے؛ نجی شعبے نے مفادات کے ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے الگ فورم کا مطالبہ کیا تھا۔ نئی کمیٹی کے فیصلوں، مدت اور اپیل کے مکمل طریقے کی تفصیل حتمی نیلامی دستاویزات میں اہم ہوگی۔
ڈان کے مطابق حکومت کئی دہائیوں سے زیر بحث مسابقتی توانائی منڈی کی سمت میں 800 میگاواٹ کی تصوراتی صلاحیت نیلام کرنے کا منصوبہ آگے بڑھا رہی ہے۔ ’’تصوراتی‘‘ یا مجوزہ صلاحیت کا مطلب یہ ہے کہ پروگرام کی مجموعی حد مقرر ہے؛ تمام 800 میگاواٹ کے معاہدے یا تعمیر ابھی مکمل نہیں۔ پہلے بلاک کے نتائج، بولی کی قیمت، گرڈ کی دستیابی اور سرمایہ کاروں کی شرکت کے بعد اگلے مراحل کی عملی رفتار واضح ہوگی۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت ویلنگ آکشن قواعد میں ترامیم، سولر و ونڈ بولی کے لیے کم از کم 10 فیصد بیٹری فرم صلاحیت کی شرط، پہلے 400 میگاواٹ بلاک کی مجوزہ درخواستِ تجاویز اور الگ شکایتی کمیٹی ہے۔ منصوبوں سے گرڈ استحکام، شام کی طلب اور قابلِ تجدید بجلی کے بہتر استعمال میں حقیقی بہتری کا جائزہ کامیاب بولیوں، تنصیب، کمیشننگ اور آپریشنل ڈیٹا کے بعد ہی لیا جاسکے گا۔




