اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے نرخوں میں مجموعی طور پر 2.58 روپے فی یونٹ اضافے کے دو الگ فیصلے کیے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق جولائی 2026 کے ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت 2.06 روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا، جبکہ اپریل سے جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے لیے 52 پیسے فی یونٹ اضافہ مقرر کیا گیا ہے۔
نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق جولائی کے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ سے صارفین پر تقریباً 33 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا تخمینہ ہے اور یہ رقم ستمبر 2026 کے بلوں میں ظاہر ہوگی۔ ماہانہ ایڈجسٹمنٹ بجلی کی پیداوار کے اصل ایندھن اخراجات اور پہلے سے مقرر ریفرنس لاگت کے فرق کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے، اس لیے یہ بنیادی ٹیرف سے الگ حساب ہوتا ہے۔
دوسری جانب ریگولیٹر نے اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھیج دیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ 52 پیسے فی یونٹ اضافہ ستمبر سے نومبر 2026 تک لاگو ہوگا اور اس کا تخمینی مالی اثر 12.67 ارب روپے ہے۔ نیپرا نے واضح کیا کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا۔
نیپرا کے مطابق جولائی کے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ میں بعض مخصوص صارفین مستثنیٰ رہیں گے، جن میں لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور وہ پری پیڈ صارفین شامل ہیں جو متعلقہ پری پیڈ ٹیرف اختیار کرچکے ہیں۔ باقی متعلقہ صارفین کے بلوں میں یہ ایڈجسٹمنٹ مقررہ طریقہ کار کے تحت شامل کی جائے گی۔
یہ اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بجلی کی قیمت اور ماہانہ بل پہلے ہی گھریلو اور کاروباری صارفین کے لیے اہم معاشی مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ فیول کاسٹ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس بجلی کے بلوں میں قلیل مدتی اتار چڑھاؤ پیدا کرتی ہیں، جس کی وجہ سے بنیادی نرخ تبدیل نہ ہونے کے باوجود صارفین کی قابل ادائیگی رقم بڑھ یا گھٹ سکتی ہے۔
جیو نیوز کے مطابق گزشتہ ماہ بھی نیپرا نے جون 2026 کے فیول اخراجات کی بنیاد پر 75 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا تھا۔ تازہ فیصلے کو مستقل 2.58 روپے فی یونٹ بنیادی ٹیرف اضافہ سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں ایک حصہ ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ اور دوسرا حصہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ہے، دونوں کی مدت اور اطلاق الگ ہیں۔




