پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر توانائی و بجلی نذیر احمد عباسی نے کہا ہے کہ مانسہرہ ضلع میں زیر تعمیر 300 میگاواٹ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبہ مکمل ہونے کے بعد صوبے کیلئے سالانہ تقریباً 15 ارب روپے آمدن پیدا کر سکتا ہے۔ یہ رقم صوبائی وزیر کی جانب سے پیش کیا گیا تخمینہ ہے اور اسے منصوبے کی موجودہ حاصل شدہ آمدن نہیں سمجھا جانا چاہیے کیونکہ منصوبہ ابھی زیر تعمیر ہے۔

Business Recorder کے مطابق صوبائی وزیر نے پیڈو ہاؤس پشاور میں بالاکوٹ پاور پراجیکٹ کے کمیونٹی سپورٹ اینڈ ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت عملے کی تربیت مکمل ہونے پر سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منصوبے کو صوبائی حکومت کا فلیگ شپ پراجیکٹ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور منصوبہ توانائی پیداوار کے ساتھ روزگار اور صوبائی معیشت کیلئے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت 300 میگاواٹ بتائی گئی ہے اور یہ مانسہرہ کے پہاڑی علاقے میں پن بجلی کے وسائل کو استعمال کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق منصوبے کو ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی مالی معاونت حاصل ہے، جبکہ صوبائی ادارہ پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اس کے نفاذ سے منسلک ہے۔

صوبائی وزیر کے مطابق منصوبے کی تکمیل سے خیبر پختونخوا کو بجلی کی پیداوار اور مالی آمدن دونوں حوالوں سے فائدہ ہوگا۔ تاہم بڑے پن بجلی منصوبوں کی حقیقی سالانہ آمدن پانی کے بہاؤ، پلانٹ کی دستیابی، بجلی کی خریداری کے نرخ، ترسیلی نظام، آپریشن اور مینٹیننس اخراجات سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔ اسی لیے 15 ارب روپے کا عدد فی الحال سرکاری تخمینے کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے، حتمی مالی نتیجہ منصوبے کے آپریشنل مرحلے کے بعد ہی واضح ہوگا۔

تربیتی پروگرام کا مقصد پیڈو عملے کی ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانا بتایا گیا۔ بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں صرف تعمیراتی سرگرمی کافی نہیں ہوتی بلکہ انجینئرنگ نگرانی، ماحولیاتی اور سماجی حفاظتی اقدامات، مقامی آبادی سے رابطہ، اثاثہ مینجمنٹ اور طویل مدتی آپریشن کیلئے تربیت بھی اہم ہوتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں دریاؤں اور پہاڑی علاقوں کی وجہ سے پن بجلی کی خاصی صلاحیت موجود ہے۔ صوبائی حکومت طویل عرصے سے ہائیڈرو پاور منصوبوں کو کم لاگت بجلی، مقامی آمدن اور صنعتی ترقی کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ بالاکوٹ منصوبے کی اہمیت اس کی 300 میگاواٹ صلاحیت اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شمولیت کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے۔

اس مرحلے پر نمایاں پیش رفت یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے منصوبے کی تعمیر اور ادارہ جاتی تیاری کو جاری رکھنے کی اطلاع دی ہے اور مکمل ہونے کے بعد 15 ارب روپے سالانہ آمدن کا تخمینہ پیش کیا ہے۔ منصوبے کی حتمی لاگت، تکمیل کی درست تاریخ اور عملی پیداوار سے متعلق نتائج آئندہ سرکاری پیش رفت رپورٹوں اور آپریشنل ڈیٹا سے زیادہ واضح ہوں گے۔