اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ورلڈ بینک گروپ کے بزنس ریڈی، بی ریڈی، اسیسمنٹ میں پاکستان کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات کے ایک نئے پیکج کی منظوری دی ہے۔ ایس ای سی پی کے مطابق ان اقدامات کا مقصد کاروبار شروع کرنے اور ریگولیٹری تقاضے پورے کرنے کے عمل میں باقی رہ جانے والے خلا کم کرنا اور نظام کو بین الاقوامی بہترین طریقوں کے قریب لانا ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان نے بی ریڈی 2025 رپورٹ کے 'بزنس انٹری' زمرے میں پہلے ہی نسبتاً مضبوط کارکردگی دکھائی تھی، جہاں اسے 101 معیشتوں میں 17 واں مقام اور 86.64 کا اسکور ملا۔ نئی اصلاحات اسی کارکردگی کو آگے بڑھانے اور ان شعبوں میں اضافی پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے منظور کی گئی ہیں جہاں معلومات کی دستیابی، ادارہ جاتی رابطے اور ڈیجیٹل سہولت میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

منظور شدہ اقدامات میں کمپنیوں کی تازہ معلومات وفاقی بورڈ آف ریونیو کے ساتھ APIs کے ذریعے خودکار طور پر شیئر کرنے کا نظام وسیع کرنا شامل ہے۔ ایس ای سی پی اس سلسلے میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ساتھ رابطہ کرے گا، تاکہ کاروباری اداروں کو مختلف سرکاری اداروں کے سامنے ایک ہی معلومات بار بار جمع کرانے کی ضرورت کم ہو اور کمپلائنس کا عمل زیادہ مربوط بنایا جا سکے۔

کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام سے مرتب ہونے کے بعد ماحولیاتی منظوریوں اور آپریٹنگ پرمٹس سے متعلق معلومات ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر قابل رسائی بنائی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد کاروباروں کو ریگولیٹری تقاضوں کے بارے میں ایک مرکزی حوالہ فراہم کرنا ہے، تاہم اصل اجازت نامے جاری کرنے کا اختیار متعلقہ اداروں کے پاس ہی رہے گا۔

اس کے علاوہ حکومت کے ان پروگراموں سے متعلق معلومات بھی ایس ای سی پی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فراہم کی جائیں گی جو چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور خواتین کاروباری افراد کی مدد کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ کمیشن نئی رجسٹرڈ کمپنیوں میں خواتین شیئر ہولڈرز، ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹوز اور الٹیمیٹ بینیفیشل اونرز سے متعلق صنفی اعداد و شمار شائع کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔

یہ اصلاحات انتظامی اور معلوماتی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد کاروبار کے لیے ریگولیٹری ماحول کو زیادہ شفاف، مربوط اور قابل رسائی بنانا ہے۔ بی ریڈی درجہ بندی میں مستقبل کی بہتری کا انحصار صرف ایس ای سی پی کے اقدامات پر نہیں بلکہ دیگر وفاقی و صوبائی اداروں کے نفاذ، ڈیٹا کے معیار اور کاروباری سطح پر عملی تجربے پر بھی ہوگا۔ اس لیے اصلاحات کی منظوری کو درجہ بندی میں کسی طے شدہ اضافے کی ضمانت نہیں بلکہ بہتری کے لیے ادارہ جاتی قدم سمجھا جائے گا۔