اسلام آباد: فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے مجوزہ فیصل آباد پشاور وائٹ آئل پائپ لائن کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، اوگرا، سے ایسا ٹیرف ڈھانچہ منظور کرنے کی درخواست کی ہے جس کے تحت تقریباً 432 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ابتدائی چار برس میں واپس حاصل کی جا سکے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق 437 کلومیٹر طویل منصوبہ فیصل آباد سے تھلیاں، راولپنڈی کے قریب، اور وہاں سے تارو جبہ، پشاور کے قریب، تک پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔

ٹیرف پٹیشن میں پہلے آپریشنل سال، جسے 2029 کے لیے ہدف بنایا گیا ہے، میں پائپ لائن کے ذریعے نقل و حمل کی شرح تقریباً 64 ڈالر فی ٹن تجویز کی گئی ہے۔ مجوزہ 30 سالہ ٹیرف مدت کے دوران یہ شرح بتدریج کم ہو کر 2058 تک تقریباً 14.5 ڈالر فی ٹن رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ایف ڈبلیو او کا مؤقف ہے کہ منصوبے کی مالی قابل عملیت اور آذربائیجان کی سرکاری تیل کمپنی سوکار کی ممکنہ شمولیت کے لیے آمدنی کا قابل اعتماد بندوبست ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ وقت میں پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی تقریباً 70 فیصد نقل و حمل سڑک کے ذریعے ہوتی ہے، جبکہ قریب 28 فیصد موجودہ پائپ لائن نیٹ ورک اور تقریباً 2 فیصد ریل کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ مجوزہ نئی لائن کے فعال ہونے سے پیٹرولیم مصنوعات کی پائپ لائن کے ذریعے ترسیل کے حصے میں تقریباً 10 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

مجوزہ طریقہ کار میں پائپ لائن کو مخصوص روٹس کے لیے 'ڈیفالٹ موڈ آف ٹرانسپورٹیشن' بنانے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے کم از کم سالانہ حجم کی یقین دہانی لینے کی بات شامل ہے۔ اگر طے شدہ حجم پورا نہ ہو تو کمی کو ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن کے ذریعے پورا کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ نکات ابھی ریگولیٹری درخواست کا حصہ ہیں اور انہیں حتمی منظور شدہ ٹیرف یا نافذ شدہ ضابطہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

ٹیرف امریکی ڈالر میں طے کرنے اور پائپ لائن کی استعداد کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے منسلک کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ اوگرا کو اس سلسلے میں ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنا ہوگا، جبکہ منصوبے سے وابستہ شرائط پر وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کی پالیسی منظوری بھی اہم رہے گی۔

منصوبے کے حامیوں کے مطابق بڑی مقدار میں تیل سڑک سے پائپ لائن پر منتقل ہونے سے ٹینکر ٹریفک، نقل و حمل کے خطرات اور ممکنہ طور پر لاجسٹک لاگت میں کمی آ سکتی ہے۔ تاہم سرمایہ کاری کی تیز واپسی کے لیے ضمانتی ٹیرف اور لازمی حجم سے متعلق تجاویز کے صارفین اور قیمتوں پر اثرات کا جائزہ ریگولیٹری عمل میں اہم ہوگا۔ فی الحال معاملہ اوگرا کے سامنے ٹیرف پٹیشن کی صورت میں زیر غور ہے، اس لیے رپورٹ میں بیان کردہ مالی شرائط کو حتمی فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔