اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپنے FASTER نظام کے ذریعے موخر ہونے والے سیلز ٹیکس ریفنڈ دعووں کی پروسیسنگ اور فیصلے کیلئے مرحلہ وار ٹائم لائنز مقرر کر دی ہیں۔ ایف بی آر نے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی ہے کہ زیر التوا دعووں کا بیک لاگ ختم کیا جائے اور نئے موخر ریفنڈ کیسز کو غیر ضروری طور پر جمع ہونے سے روکا جائے۔

Business Recorder میں شائع ایف بی آر ہدایات کی تفصیلات کے مطابق متعدد ریفنڈ دعوے مقررہ ویلیڈیشن چیکس مکمل ہونے کے بعد FASTER نظام سے ڈیفر ہو گئے تھے لیکن مطلوبہ دستاویزات جمع نہ ہونے یا بعد کے مرحلوں میں تاخیر کی وجہ سے فیلڈ دفاتر میں زیر التوا رہے۔ بورڈ نے تمام چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کو نئی ٹائم لائنز پر سختی سے عمل کرانے کی ہدایت کی ہے۔

طے شدہ طریقہ کار کے تحت 12 ویلیڈیشن چیکس یا سائیکلز مکمل ہونے کے بعد موخر ہونے کا میمو FASTER کے ذریعے ٹیکس دہندہ اور متعلقہ فیلڈ آفس کو پہنچایا جائے گا۔ اس کے بعد فیلڈ آفس کو ٹیکس دہندہ سے مطلوبہ ریکارڈ اور دستاویزات سات دن کے اندر طلب کرنا ہوں گی۔ اگر دستاویزات مکمل طور پر فراہم نہ ہوں تو اعتراض کا میمو جاری کیا جائے گا اور جواب کیلئے یاد دہانیاں بھیجی جائیں گی۔ مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں شوکاز نوٹس کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔

ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریفنڈ دعوے کی STARR ریپلیکیشن اور تصدیق کے بعد کیس کو مقررہ مدت میں پروسیس کرکے منظوری دینے والے افسر کو بھیجا جائے۔ قابل قبول ریفنڈ کی جانچ، منظوری، ریفنڈ پیمنٹ آرڈر جاری کرنے یا متبادل طور پر شوکاز نوٹس دینے کے مراحل بھی مخصوص وقت کی حدود کے اندر مکمل کرنے ہوں گے۔

ایف بی آر نے ریفنڈ درخواست گزاروں کیلئے ضروری دستاویزات کی چیک لسٹ بھی مقرر کی ہے۔ اس میں سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر، نیشنل ٹیکس نمبر، خرید و فروخت کی انوائسز، درآمد و برآمد کی گڈز ڈیکلریشنز، متعلقہ ٹیکس پیریڈ، ماہانہ ریٹرن اور ضمیمے، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، سیلز رجسٹر، سیکشن 73 کی تعمیل، اتھارٹی لیٹر اور متعلقہ انڈرٹیکنگز شامل ہیں۔ وصول یا پروسیسنگ کرنے والا افسر فائل ملتے وقت ہر دستاویز کی موجودگی چیک کرے گا اور کسی کمی کو ریکارڈ کرے گا۔

بورڈ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد موخر ریفنڈ دعووں کے فیصلے میں تیزی لانا اور طویل التوا سے متعلق ٹیکس دہندگان کی شکایات کو کم کرنا ہے۔ ریفنڈ نظام میں تاخیر کاروباری اداروں، خاص طور پر برآمد کنندگان، کی نقدی روانی پر اثر ڈال سکتی ہے، اس لیے واضح ٹائم لائنز انتظامی پیش گوئی اور جواب دہی کیلئے اہم سمجھی جاتی ہیں۔

ایف بی آر نے ساتھ ہی وضاحت کی ہے کہ یہ مقررہ ٹائم لائن ایسے دعووں پر لاگو نہیں ہوگی جو اضافی کیری فارورڈ رقم یا سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 8B کے تحت ان پٹ ٹیکس کیری فارورڈ سے متعلق ہوں۔ اس لیے نئی ہدایات کو تمام اقسام کے سیلز ٹیکس ریفنڈز پر یکساں طور پر لاگو ہونے والا عمومی نظام نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

موجودہ اقدام کا بنیادی اثر طریقہ کار کو وقت کی پابندی کے ساتھ منظم کرنا ہے۔ اس سے ریفنڈ کی خودکار منظوری کی ضمانت نہیں ملتی؛ ہر دعویٰ دستاویزی اور قانونی جانچ سے گزرے گا اور نتیجہ ریفنڈ آرڈر، مزید اعتراض یا شوکاز کارروائی میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے۔