اسلام آباد: ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) پاکستان ریلوے کے مین لائن ون (ایم ایل ون) کے کراچی تا روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن کیلئے 1.1 ارب ڈالر تک کی فنانسنگ پر غور کر رہا ہے۔ اے ڈی بی کی دستیاب پراجیکٹ دستاویزات کے مطابق منصوبہ تقریباً 480 کلومیٹر طویل اس اہم مسافر اور مال بردار ریلوے کوریڈور کی بحالی اور جدید کاری کیلئے تیار کیا جا رہا ہے۔

اے ڈی بی کے پراجیکٹ ڈیٹا کے مطابق مجوزہ مالی سہولت میں ایک ارب ڈالر بینک کے عام سرمائے سے اور 10 کروڑ ڈالر رعایتی عام سرمائے کی قرضہ سہولت سے فراہم کیے جانے کی تجویز ہے۔ یہ فنانسنگ ملٹی ٹرانچ فنانسنگ فسیلٹی کے تحت زیر غور ہے۔ منصوبہ ابھی تجویز کے مرحلے میں ہے، اس لیے 1.1 ارب ڈالر کی رقم کو حتمی منظور شدہ قرض نہیں سمجھا جا سکتا۔

منصوبے کا بنیادی ہدف کراچی اور روہڑی کے درمیان ایم ایل ون کے اس حصے کو زیادہ محفوظ، تیز، قابل اعتماد اور موسمیاتی اثرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانا ہے۔ اے ڈی بی کے مطابق مجوزہ سرمایہ کاری میں ٹریک اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سگنلنگ اور آپریشنز کی جدید کاری، اثاثہ مینجمنٹ، دیکھ بھال کے نظام اور پاکستان ریلوے کی ادارہ جاتی صلاحیت میں بہتری شامل ہوگی۔

اے ڈی بی نے اس منصوبے کو پاکستان کے قومی اور علاقائی رابطے، لاجسٹکس اور اقتصادی مسابقت سے جوڑا ہے۔ کراچی تا روہڑی سیکشن ملک کے اہم بندرگاہی اور داخلی ریلوے نیٹ ورک کو ملانے والی مرکزی شہ رگ ہے، جبکہ پاکستان میں مال برداری کا بڑا حصہ سڑکوں پر منتقل ہو چکا ہے۔ منصوبہ سازوں کے مطابق ریلوے کی بہتری سے بھاری مال برداری کو سڑک سے ریل کی طرف منتقل کرنے، سفر کے وقت میں کمی، لاجسٹکس لاگت میں بہتری اور ریل نظام کی توانائی و ماحولیاتی کارکردگی بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اے ڈی بی کی ویب سائٹ پر منصوبے کا اسٹیٹس 'پروپوزڈ' درج ہے۔ اسے 18 جون 2026 کو کانسیپٹ کلیئرنس ملی، جبکہ فیکٹ فائنڈنگ مشن جنوری 2027 کیلئے شیڈول کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ قرض کی منظوری، شرائط اور عمل درآمد کا مکمل فریم ورک ابھی مزید تیاری اور جائزے سے گزرنا باقی ہے۔

وزارت ریلوے بھی اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے کا اعلان کر چکی ہے۔ 3 ستمبر 2026 کو اے ڈی بی کے نائب صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد وفاقی وزیر ریلوے نے کہا تھا کہ حکومت کراچی تا روہڑی سیکشن کا سنگ بنیاد رواں مالی سال میں رکھنا چاہتی ہے۔ وزارت ریلوے کے مطابق اس مکمل سیکشن کی مجموعی لاگت تقریباً 2.5 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، اس لیے اے ڈی بی کی مجوزہ 1.1 ارب ڈالر فنانسنگ مجموعی منصوبہ لاگت کے ایک حصے سے متعلق ہے۔

فنانسنگ پر غور کی موجودہ پیش رفت اہم ضرور ہے، لیکن اسے حتمی قرض منظوری یا فوری فنڈ اجراء کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اے ڈی بی کے اپنے ریکارڈ کے مطابق منصوبہ تیاری کے مرحلے میں ہے اور آئندہ مہینوں میں تکنیکی، مالی، ماحولیاتی اور سماجی جانچ کے مزید مراحل باقی ہیں۔