اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایسے منتخب علاقوں کے لیے اسٹینڈ الون الیکٹرک پاور سسٹمز کا نیا ریگولیٹری فریم ورک تجویز کیا ہے جہاں روایتی تقسیم کار نیٹ ورک مسلسل زیادہ نقصانات، کم وصولیوں، ناقص معیارِ خدمت یا معاشی طور پر غیر موزوں آپریشن کا شکار ہیں۔ یہ تجویز ابھی حتمی قانون نہیں بلکہ عوامی مشاورت کے لیے جاری کردہ مسودہ ہے۔
مجوزہ National Electric Power Regulatory Authority Standalone Electric Power System (Pilot Projects) Regulations, 2026 کے مطابق وفاقی یا صوبائی حکومت کسی مخصوص علاقے میں خود کفیل بجلی نظام کی اسکیم اسپانسر کر سکے گی۔ ایسا نظام بجلی پیدا کرنے کی سہولت، ممکنہ توانائی ذخیرہ اور متعلقہ برقی انفراسٹرکچر پر مشتمل ہوگا اور قومی یا صوبائی گرڈ سے براہ راست یا بالواسطہ برقی کنکشن کے بغیر صارفین کو بجلی فراہم کرے گا۔
ابتدائی طور پر ہر ڈسٹری بیوشن لائسنس یافتہ کمپنی کے علاقے میں زیادہ سے زیادہ دو پائلٹ منصوبوں کی اجازت تجویز کی گئی ہے، تاہم اسپانسر حکومت کی درخواست پر نیپرا زیادہ منصوبوں کی منظوری دے سکے گا۔ اہل علاقوں میں مسلسل زیادہ ڈسٹری بیوشن لاسز، ریکوری کے مسائل، ناقص سروس، دور افتادگی یا روایتی نیٹ ورک برقرار رکھنے کی غیر معاشی لاگت جیسے عوامل شامل ہوں گے۔
مسودے کے مطابق کسی موجودہ صارف کا گرڈ کنکشن اسٹینڈ الون نظام نصب ہونے سے پہلے منقطع نہیں کیا جا سکے گا۔ اسکیم میں جغرافیائی حدود، فیڈرز، متاثرہ صارفین، استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی، عمل درآمد کا شیڈول، ذمہ دار ادارہ، کم از کم سروس لیول، شکایات کا طریقہ کار، حفاظتی انتظامات اور لاگت و فائدے کا تجزیہ دینا ہوگا۔ صارفین سے مشاورت اور ان کے ڈیٹا کے تحفظ کی شرائط بھی شامل کی گئی ہیں۔
اہم مالی اصول یہ تجویز کیا گیا ہے کہ منصوبے کی لاگت حکومت گرانٹ، سبسڈی یا دوسرے وسائل سے برداشت کرے گی اور اسے تقسیم کار کمپنی کے ریونیو ریکوائرمنٹ یا عام بجلی ٹیرف میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اگر بعد میں علاقہ دوبارہ روایتی گرڈ سے جوڑا گیا تو بحالی اور دوبارہ کنکشن کی لاگت بھی اسپانسر حکومت برداشت کرے گی۔
عمل درآمد کرنے والے ادارے کو منصوبہ شروع ہونے کے تین ماہ بعد نیپرا کو رپورٹ دینا ہوگی، جبکہ ریگولیٹر ایک سال بعد کارکردگی کا مزید جائزہ لے گا۔ نیپرا نے مسودے پر 30 دن کے اندر آرا طلب کی ہیں۔ اس لیے فی الحال یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اسٹینڈ الون نظام ملک بھر میں نافذ ہو چکا ہے؛ حتمی شکل عوامی مشاورت، ریگولیٹری جائزے اور باضابطہ نوٹیفکیشن کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

