اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مسابقتی بجلی تجارتی مارکیٹ میں حصہ لینے والے بلک پاور صارفین کے لیے یوز آف سسٹم چارجز کی منظوری دے دی ہے۔ ڈان کی 8 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق منظور شدہ چارجز مختلف صارف زمروں کے لیے 6.23 روپے سے 19.62 روپے فی یونٹ کے درمیان ہوں گے اور ان کا اطلاق بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام کو استعمال کرنے والے اوپن ایکسس صارفین پر ہوگا۔
ریگولیٹر کے فیصلے کو مسابقتی بجلی مارکیٹ کی طرف ایک اہم انتظامی قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے نجی سپلائر اور بڑے صارف کے درمیان بجلی کی خرید و فروخت کے باوجود قومی گرڈ کے استعمال کی لاگت واضح ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یوز آف سسٹم چارج میں ترسیلی و تقسیمی اخراجات، گرڈ کے مقررہ چارجز اور کراس سبسڈی سے متعلق اجزا شامل ہیں۔ بجلی کی اصل سپلائی قیمت، بشمول پیداواری لاگت، نجی سپلائر اور متعلقہ بلک صارف کے درمیان الگ طے ہوگی۔
منظوری کے تحت بی تھری صنعتی صارف کے لیے قومی گرڈ استعمال کرنے کا چارج 6.23 روپے فی یونٹ جبکہ بی فور صنعتی صارف کے لیے 9.09 روپے فی یونٹ بتایا گیا ہے۔ دیگر زمروں میں شرح زیادہ ہو سکتی ہے اور مجموعی منظور شدہ حد 19.62 روپے فی یونٹ تک جاتی ہے۔ ملک میں تین ہزار سے زیادہ بلک پاور صارفین موجود ہونے کی اطلاع ہے، اس لیے اس فریم ورک کے عملی اثرات صنعتی بجلی خریداری اور تقسیم کار کمپنیوں کی آمدن دونوں کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔
فیصلے سے 400 میگاواٹ کی پہلی اوپن ایکسس بجلی نیلامی کے لیے ایک بنیادی ریگولیٹری رکاوٹ دور ہوئی ہے۔ اس ماڈل میں اہل بڑے صارفین روایتی تقسیم کار کمپنی سے مکمل بجلی خریدنے کے بجائے مسابقتی مارکیٹ میں سپلائر سے معاہدہ کر سکتے ہیں، تاہم بجلی ان تک پہنچانے کے لیے موجودہ قومی ترسیلی و تقسیمی نظام استعمال ہونے کی صورت میں منظور شدہ چارج ادا کرنا ہوگا۔
یہ منظوری خود بخود بجلی کی قیمت میں کمی یا تمام صارفین کے لیے فوری طور پر نئی مارکیٹ کے آغاز کی ضمانت نہیں دیتی۔ عملی نتائج کا انحصار نیلامی، نجی سپلائرز کی پیشکشوں، اہل صارفین کی شرکت، گرڈ کی دستیابی اور متعلقہ مارکیٹ قواعد کے نفاذ پر ہوگا۔ نیپرا کا موجودہ فیصلہ بنیادی طور پر اس قیمت کا ریگولیٹری تعین ہے جو اوپن ایکسس کے ذریعے قومی نظام استعمال کرنے والے بلک صارفین سے وصول کی جائے گی۔




