اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے اوپن ایکسس کے تحت بجلی لینے والے بلک صارفین کے لیے یکساں یوز آف سسٹم چارجز، یعنی UoSC، منظور کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ پاکستان میں مسابقتی بجلی مارکیٹ کے عملی آغاز کے لیے اہم ریگولیٹری قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے بعد اہل صارفین کو اپنی تقسیم کار کمپنی تک محدود رہنے کے بجائے مقررہ قواعد کے تحت متبادل سپلائر سے بجلی خریدنے کا راستہ مل سکتا ہے۔
نیپرا کے فیصلے کے مطابق مسابقتی وہیلنگ نیلامی کے ذریعے اوپن ایکسس اختیار کرنے والے صارفین کے لیے گرڈ سے متعلق یکساں چارجز صارف کی کیٹیگری کے لحاظ سے 6 روپے 23 پیسے سے 19 روپے 62 پیسے فی یونٹ تک ہوں گے۔ ان چارجز میں ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور کراس سبسڈی کے اجزا شامل ہیں، جبکہ منظور شدہ لوڈ کی بنیاد پر ایک روپے فی کلوواٹ ماہانہ مقررہ گرڈ چارج بھی لاگو ہوگا۔
وہ صارفین جو مسابقتی نیلامی میں حصہ لیے بغیر اوپن ایکسس حاصل کریں گے، ان پر اسٹرینڈڈ کاسٹ کے اضافی چارجز بھی لاگو ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے صارفین کے لیے مجموعی متغیر یوز آف سسٹم چارجز مختلف کیٹیگریز میں 19 روپے 17 پیسے سے 32 روپے 56 پیسے فی یونٹ تک ہو سکتے ہیں۔ 11 کے وی صارفین کے لیے اسٹرینڈڈ کاسٹ کا جزو 12 روپے 94 پیسے فی کلوواٹ آور جبکہ 132 یا 66 کے وی کنکشن کے لیے 16 روپے 35 پیسے فی کلوواٹ آور مقرر کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی اس درخواست کے بعد سامنے آیا جس میں سابق واپڈا تقسیم کار کمپنیوں اور کے الیکٹرک کے لیے یکساں وہیلنگ چارجز کی تجویز دی گئی تھی۔ نیپرا نے مؤقف اختیار کیا کہ یکساں چارجز بلک پاور صارفین اور دیگر اوپن ایکسس صارفین کے درمیان مسابقتی برابری برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ ریگولیٹر نے 11 کے وی صارفین کے لیے یکساں ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن لاس فیکٹر 8.04 فیصد اور 132/66 کے وی صارفین کے لیے 1.51 فیصد منظور کیا۔
نیپرا نے یہ تجویز مسترد کر دی کہ UoSC سے متعلق کوئی اضافی چارج صرف وہیلنگ صارفین سے وصول کیا جائے۔ اتھارٹی کے مطابق ایسا چارج اگر لاگو ہو تو اوپن ایکسس صارفین اور سپلائر آف لاسٹ ریزورٹ سے بجلی لینے والے صارفین دونوں پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے، تاکہ امتیازی سلوک پیدا نہ ہو۔ مختلف ڈسکوز کے درمیان یکساں UoSC کی وجہ سے پیدا ہونے والے مالی فرق کو موجودہ یونیفارم ٹیرف میکانزم کے ذریعے ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اس فیصلے کو مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام کی جانب اہم سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ اس سے پاکستان کی پہلی سی ٹی بی سی ایم نیلامی کے لیے درخواستِ تجاویز جاری کرنے کی راہ صاف ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اہل صنعتی صارفین مستقبل میں دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے اپنے منتخب سپلائر سے بجلی خرید سکیں گے، جس سے جنریشن کی کارکردگی، پلانٹس کے بہتر استعمال اور قابلِ تجدید توانائی و بیٹری اسٹوریج جیسے ذرائع کی شمولیت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
نیپرا نے متعلقہ تقسیم کار کمپنیوں کو 2026 کے منظور شدہ ٹیرف کی بنیاد پر فوری طور پر UoSC درخواستیں جمع کرانے اور وفاقی حکومت کو مقررہ قانونی مدت میں فیصلے کی سرکاری گزٹ میں اشاعت کے اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس فیصلے کا عملی اثر اس وقت واضح ہوگا جب مسابقتی مارکیٹ کے اگلے مرحلے، بالخصوص پہلی نیلامی اور صارفین کی عملی منتقلی، کا آغاز ہوگا۔




