یروشلم: اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کو اس بیان کے بعد ملک کے مرکزی بینک، ماہرین معاشیات اور سیاسی مخالفین کی تنقید کا سامنا ہے جس میں انہوں نے ممکنہ بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکان پر مثبت ردعمل دیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق یہ بحث ایسے وقت سامنے آئی جب بعض مغربی ممالک نے اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 24 اکتوبر کو ایک انٹرویو میں نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ آیا کرپٹو کرنسی ممکنہ مالی پابندیوں کو بائی پاس کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ انہوں نے اس امکان سے اتفاق کیا اور کہا کہ حکومت اسرائیلی بینکوں کے خلاف ممکنہ پابندیوں کے منظرنامے کی تیاری کر رہی ہے۔ ان کا بیان کسی نافذ شدہ سرکاری کرپٹو پالیسی یا مالی نظام میں فوری تبدیلی کا اعلان نہیں تھا، بلکہ ممکنہ پابندیوں سے متعلق گفتگو کا حصہ تھا۔
بینک آف اسرائیل نے اس خیال سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کرپٹو کرنسیاں پابندیوں کو قابل اعتماد طور پر بائی پاس نہیں کر سکتیں۔ مرکزی بینک نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ معاشی تعلقات محفوظ رکھنے اور بین الاقوامی تنہائی کے خطرے کو محدود کرنے کو ترجیح دے۔ یہ ردعمل اس خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ مالی پابندیوں کا اثر صرف ادائیگی کے طریقوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ سرمایہ کاری، تجارت، بینکاری اور مجموعی اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایک سو سے زیادہ ماہرین معاشیات، جن میں سابق مرکزی بینک عہدیدار اور نمایاں ماہرین شامل تھے، نے ایک خط میں خبردار کیا کہ پابندیوں سے بچنے کے لیے کرپٹو پر انحصار کا تصور بیرونی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا سکتا ہے، کاروباری سرگرمیوں کو ملک سے باہر منتقل ہونے کی ترغیب دے سکتا ہے اور روزگار پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ ان ماہرین کی تنبیہ ایک معاشی رائے اور خطرے کا تخمینہ ہے، نہ کہ کسی ایسے نقصان کی تصدیق جو پہلے ہی واقع ہو چکا ہو۔
سیاسی مخالفین نے بھی نیتن یاہو کے بیان کو انتخابی اور معاشی بحث کا حصہ بنایا۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بین الاقوامی پابندیوں کے امکانات کو کم سمجھنا اسرائیلی معیشت کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت کی کسی حتمی پالیسی، قانونی فریم ورک یا کرپٹو کے ذریعے مخصوص مالی لین دین کے منصوبے کی تفصیل رپورٹ میں سامنے نہیں آئی۔
یہ تنازع اس وسیع تر سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ ریاستیں مالی پابندیوں، بینکاری روابط اور ڈیجیٹل اثاثوں کے درمیان تعلق کو کس طرح دیکھتی ہیں۔ کرپٹو نیٹ ورکس سرحد پار منتقلی کے متبادل ذرائع فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ان کا استعمال بھی ضابطہ کاری، ایکسچینجز، بینکنگ رابطوں اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں آتا ہے۔ فی الحال اسرائیل میں بحث ایک سیاسی و معاشی تجویز اور اس پر ادارہ جاتی ردعمل تک محدود ہے؛ اسے کسی عملی طور پر نافذ پابندی شکن نظام کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔
