اسلام آباد: نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این جی سی) نے متعلقہ خود مختار بجلی پیدا کرنے والے اداروں اور دیگر پاور پلانٹ آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ریموٹ ٹیلی میٹری یونٹس، گیٹ ویز اور ان سے منسلک مواصلاتی روابط مقررہ ڈیڈ لائنز کے اندر بحال کریں۔ کمپنی کا ہدف 31 اکتوبر 2026 تک سپروائزری کنٹرول اینڈ ڈیٹا ایکوزیشن، یعنی SCADA، کے ڈیٹا معیار کو کم از کم 95 فیصد تک پہنچانا ہے۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق این جی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر الطاف حسین نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی کے چیف ایگزیکٹو ریحان اختر کو بھیجے گئے خط میں ان اسٹیشنوں سے حقیقی وقت میں ڈیٹا کی ترسیل بحال کرنے کی اہمیت واضح کی جن کی نشاندہی خط کے ضمیمے میں کی گئی ہے۔ مرکزی متن میں تمام متاثرہ پاور پلانٹس کے نام یا ان کی تعداد درج نہیں، اس لیے دستیاب معلومات کی بنیاد پر کسی مخصوص پلانٹ کے بارے میں نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

خط میں گرڈ کوڈ 2023 کی متعلقہ شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر صارف اپنی لاگت پر وہ ٹیلی میٹری، نیٹ ورکنگ اور کمیونیکیشن آلات نصب اور برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہے جو سسٹم آپریٹر کے SCADA نظام کے ساتھ حقیقی وقت میں ڈیٹا کے تبادلے کے لیے ضروری ہوں۔ ان قواعد کے تحت مطلوبہ آپریشنل ڈیٹا روکنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

ایکشن پلان کے تحت متعلقہ کمپنیوں کو نہ صرف آر ٹی یوز، گیٹ ویز اور کمیونیکیشن لنکس بحال کرنا ہوں گے بلکہ ہر اسٹیشن کے لیے فوکل پرسن بھی نامزد کرنا ہوگا۔ یہ فوکل پرسن انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر اور این جی سی کے SCADA-III پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے ساتھ رابطہ رکھیں گے۔ بحالی مکمل ہونے کے بعد حقیقی وقت کی ڈیٹا ٹرانسمیشن کی تصدیق آئی ایس ایم او کو دینا ہوگی اور اس کی نقل این جی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر کے دفتر کو بھی بھیجی جائے گی۔

این جی سی کے مطابق اس کے اپنے اسٹیشنوں پر ٹیلی میٹری بحالی طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے، تاہم مجموعی طور پر 95 فیصد ڈیٹا معیار حاصل کرنے کے لیے دیگر متعلقہ اسٹیشنوں کی بروقت بحالی بھی ضروری ہے۔ کمپنی کی SCADA-III ٹیم اور علاقائی ٹیلی کمیونیکیشن ٹیمیں تکنیکی معاونت اور انٹرفیس کوآرڈینیشن فراہم کریں گی۔

قومی گرڈ کے محفوظ اور مؤثر آپریشن میں حقیقی وقت کے درست ڈیٹا کی بنیادی اہمیت ہے۔ SCADA نظام سسٹم آپریٹر کو پیداواری یونٹس اور گرڈ سے منسلک تنصیبات کی حالت کی نگرانی اور سپروائزری کنٹرول کی سہولت دیتا ہے۔ ٹیلی میٹری یا مواصلاتی رابطے منقطع ہونے کی صورت میں آپریٹر کے پاس پلانٹس کی عملی حالت کی مکمل اور بروقت تصویر دستیاب نہیں رہتی، اسی لیے این جی سی نے بحالی کے عمل کو تیز کیا ہے۔