اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے سڑک منصوبوں کی منصوبہ بندی، ڈیزائن اور تکمیل میں تاخیر پر تفصیلی بحث ہوئی۔ وزارت مواصلات کے خصوصی سیکریٹری علی شیر محسود نے کمیٹی کے سامنے تسلیم کیا کہ ملک بھر کے بعض شاہراہ منصوبوں میں کمزور منصوبہ بندی این ایچ اے کا اہم مسئلہ رہی ہے، جبکہ وزارت نے منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے شعبوں کی صلاحیت بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس میں 2024-25 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ ایک اہم معاملہ 167 کلومیٹر طویل جگلوٹ-اسکردو روڈ پر 4.3 ارب روپے مالیت کے باقی کاموں سے متعلق تھا۔ یہ منصوبہ بہتری، اپ گریڈیشن اور چوڑائی میں اضافے کے لیے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو دیا گیا تھا۔ حکام نے بتایا کہ شاہراہ کے 16 حصے لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے دوچار ہیں اور حالیہ برسوں میں متعدد لینڈ سلائیڈز نے کام کی رفتار متاثر کی۔
خصوصی سیکریٹری کے مطابق منصوبہ اصل میں نومبر 2022 تک مکمل ہونا تھا، تاہم اب جگلوٹ-اسکردو روڈ کی تکمیل دسمبر 2026 تک متوقع ہے۔ آڈیٹر جنرل کے دفتر نے مؤقف اختیار کیا کہ باقی کام بروقت مکمل نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ مالی ایڈجسٹمنٹ یا کٹوتی کا جائزہ ضروری ہے۔
ایک دوسرے آڈٹ اعتراض میں انڈس ہائی وے این-55 کے کرک سے کوہاٹ حصے کی دو رویہ تعمیر اور بہتری کے منصوبے کے ڈیزائن پر سوال اٹھایا گیا۔ آڈٹ کے مطابق تقریباً 11.8 کلومیٹر طویل چار لین بائی پاس اصل دائرہ کار میں شامل نہ ہونے کے باوجود ویری ایشن آرڈر کے ذریعے شامل کیا گیا، جس سے 4.080 ارب روپے کے اضافی مالی اثر کی نشاندہی ہوئی۔
چترال-کیلاش ویلی روڈ کے تعمیر، بحالی اور چوڑائی کے منصوبے میں بھی 1.869 ارب روپے کی مبینہ غیر باقاعدہ ادائیگی کا آڈٹ اعتراض زیر بحث آیا۔ آڈٹ کے مطابق متعلقہ ادائیگی مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر کی گئی تھی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ متعلقہ کنسلٹنٹ کو بلیک لسٹ کیا جا چکا ہے۔
یہ معاملات آڈٹ اور پارلیمانی نگرانی کے مرحلے میں ہیں۔ آڈٹ اعتراض کسی فریق کے خلاف حتمی قانونی قصور کا فیصلہ نہیں ہوتا؛ متعلقہ اداروں کے جواب، ریکارڈ اور کمیٹی کی آئندہ ہدایات کے بعد مالی یا انتظامی ذمہ داری کا تعین آگے بڑھ سکتا ہے۔




