نیشنل ہائی وے اتھارٹی، نجکاری کمیشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی نے چار بڑے سڑک انفراسٹرکچر منصوبوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت آگے بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کی۔ اجلاس میں مجوزہ منصوبوں کی مالی افادیت، تجارتی امکانات اور نجی سرمایہ کاری کے لیے موزونیت پر غور کیا گیا۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق زیر غور منصوبوں میں ایم-10 موٹروے کا 169 کلومیٹر طویل حصہ بھی شامل ہے، جسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تعمیر یا چلانے کے امکان کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں دیگر شاہراہ نیٹ ورکس کے مالی ماڈل، آمدنی کے ذرائع اور نجی شعبے کے لیے ممکنہ کاروباری ڈھانچے پر بھی گفتگو ہوئی۔ تاہم سرکاری بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ چاروں منصوبوں کے لیے حتمی بولی، مالی بندوبست یا کنسیشن معاہدے منظور ہو چکے ہیں؛ اس مرحلے کو امکان اور فزیبلٹی کے جائزے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اجلاس میں کہا کہ حکومت این ایچ اے کو مستقبل میں 500 سے 1000 ارب روپے مالیت کا خود کفیل ادارہ بنانے کی سمت کام کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے شاہراہوں سے حاصل ہونے والی آمدنی، اثاثوں کے بہتر استعمال، جدید ٹولنگ، تجارتی سرگرمیوں اور نجی سرمایہ کاری کو اہم قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق سرکاری بجٹ پر انحصار کم کرنے کے لیے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں ایسے مالی ماڈل تلاش کرنا ضروری ہیں جن میں نجی شعبہ سرمایہ اور انتظامی مہارت فراہم کر سکے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کے لیے شفاف، قابلِ عمل اور سرمایہ کار دوست فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں پی تھری اے اور متعلقہ اداروں کو منصوبوں کی ساخت، مالی خطرات، ممکنہ محصولات اور حکومتی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی تاکہ ایسے منصوبے منتخب کیے جا سکیں جو عوامی مفاد اور مالی پائیداری دونوں تقاضے پورے کریں۔

پاکستان میں بڑی موٹرویز اور قومی شاہراہیں تجارت، بندرگاہوں تک رسائی اور بین الصوبائی نقل و حرکت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ تاہم بڑے منصوبوں کی لاگت، دیکھ بھال اور قرض کے دباؤ نے حکومت کو متبادل مالیاتی ماڈل تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سرمایہ کاری کا ایک راستہ فراہم کر سکتی ہے، لیکن اس میں ٹول نرخ، حکومتی ضمانتیں، زمین، تعمیراتی خطرات اور طویل مدتی منافع جیسے معاملات کی شفاف شرائط اہم ہوتی ہیں۔

موجودہ مشاورت سے کسی منصوبے کی فوری نجکاری یا نجی شعبے کو منتقلی ثابت نہیں ہوتی۔ اگلا مرحلہ تفصیلی فزیبلٹی، قانونی و مالی ڈھانچے اور متعلقہ منظوریوں سے مشروط ہوگا۔ اسی کے بعد واضح ہوگا کہ چار میں سے کون سے منصوبے پی پی پی ماڈل کے تحت مارکیٹ میں پیش کیے جائیں گے اور حکومت و نجی سرمایہ کار کے درمیان مالی ذمہ داریاں کس طرح تقسیم ہوں گی۔