پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو حالیہ کمزوری کے بعد جزوی بحالی دیکھی گئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 779.34 پوائنٹس، یعنی 0.47 فیصد اضافے کے ساتھ 165,930.99 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری سیشن کے دوران انڈیکس زیادہ تر مثبت زون میں رہا اور 166,242.43 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک گیا، جبکہ دن کی کم ترین سطح 164,731.91 پوائنٹس رہی۔

مارکیٹ رپورٹس کے مطابق ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی منتخب حصص میں واپسی نے انڈیکس کو سہارا دیا۔ ریفائنری، سرمایہ کاری کمپنیوں، سیکیورٹیز، ٹیکنالوجی اور مواصلات کے شعبوں میں سرگرمی نمایاں رہی، جبکہ بجلی، کمرشل بینکوں اور تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں میں بھی منتخب خریداری سامنے آئی۔ کمرشل بینک، پاور، سیمنٹ اور آٹو سیکٹر مجموعی طور پر مثبت شراکت دار رہے، اگرچہ چند بڑی کمپنیوں میں کمزوری نے انڈیکس کے اضافے کو جزوی طور پر محدود کیا۔

کے ٹریڈ سیکیورٹیز کے مطابق کے ایس ای 100 میں تقریباً نصف فیصد اضافہ ہوا لیکن تجارتی حجم نسبتاً محدود رہا۔ رپورٹ میں قریب مدت کے لیے مارکیٹ کو محتاط اور ایک حد کے اندر رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا، کیونکہ تیل کی عالمی قیمتیں، جغرافیائی سیاسی پیش رفت اور کمپنیوں کے مالی نتائج سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے رہیں گے۔ برینٹ خام تیل تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کی بلند سطح پر ہونے کے باعث میکرو اکنامک غیر یقینی صورتحال بدستور موجود رہی۔

مارکیٹ کے مثبت رجحان کے لیے دو عوامل خاص طور پر زیر بحث رہے۔ ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں سے متعلق امیدوں نے خطرے کے تاثر میں کچھ کمی کی، جبکہ دوسری جانب آٹو پالیسی 2026-31 کے مجوزہ مسودے نے آٹو کمپنیوں کے حصص کو سرمایہ کاروں کی توجہ میں لایا۔ مجوزہ پالیسی میں برآمدات بڑھانے، ٹیرف میں تبدیلی، مقامی پیداوار اور نئی توانائی والی گاڑیوں کے لیے مراعات جیسے اقدامات زیر غور ہیں، تاہم یہ تجاویز متعلقہ منظوریوں سے مشروط ہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مجموعی کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 446.8 ملین حصص سے کم ہو کر 379.9 ملین حصص رہا، جبکہ حصص کی مجموعی مالیت تقریباً 21.3 ارب روپے تھی۔ حب پاور، حبیب بینک، یو بی ایل، او جی ڈی سی، ماری انرجیز، پی پی ایل، فوجی فرٹیلائزر، سازگار انجینئرنگ، لکی سیمنٹ اور این سی پی ایل نے انڈیکس میں نمایاں مثبت حصہ ڈالا۔

ایک دن کی تیزی کو مستقل رجحان سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ مارکیٹ کا اگلا رخ عالمی تیل کی قیمتوں، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ملکی پالیسی فیصلوں، شرح سود اور لسٹڈ کمپنیوں کے نتائج سے جڑا رہے گا۔ بدھ کی پیش رفت بنیادی طور پر حالیہ دباؤ کے بعد جزوی بحالی کی عکاسی کرتی ہے۔