پاکستان کی نئی آٹو پالیسی کے پانچ سالہ روڈمیپ کا مسودہ وفاقی کابینہ کو منظوری کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے پالیسی کے بنیادی فریم ورک کی منظوری دے دی ہے، جبکہ مسودے میں 2031 تک آٹوموبائل اور پرزہ جات کی برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک لے جانے، صنعت میں مسابقت بڑھانے اور درآمدی ٹیرف کو مرحلہ وار کم کرنے کے اہداف شامل ہیں۔ یہ اقدامات ابھی مجوزہ پالیسی کا حصہ ہیں اور کابینہ کی حتمی منظوری اور متعلقہ قانونی و مالیاتی نوٹیفکیشن کے بعد ہی نافذ العمل ہوں گے۔

پالیسی کا مقصد مقامی آٹو صنعت کو تحفظ پر مبنی پرانے ڈھانچے سے بتدریج زیادہ مسابقتی اور برآمدی ماڈل کی طرف منتقل کرنا بتایا گیا ہے۔ مسودے میں درآمدی ڈیوٹی اور دیگر حفاظتی ٹیرف میں مرحلہ وار کمی کا راستہ تجویز کیا گیا ہے تاکہ مقامی مینوفیکچررز عالمی معیار، قیمت اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے زیادہ مسابقتی بن سکیں۔ اس کے ساتھ مقامی پرزہ ساز صنعت کی صلاحیت بڑھانے اور برآمدی منڈیوں تک رسائی کو پالیسی کی اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں بھی ٹیکس اور مارکیٹ ڈھانچے سے متعلق تجاویز شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ حکومت نئی توانائی والی گاڑیوں کی مقامی تیاری، چارجنگ انفراسٹرکچر اور صارفین کے لیے قابلِ برداشت قیمت کے درمیان توازن پیدا کرنا چاہتی ہے۔ تاہم کسی مخصوص ماڈل یا تمام ای وی گاڑیوں پر یکساں شرح کے اطلاق کا حتمی فیصلہ کابینہ اور بعد کے قواعد سے واضح ہوگا۔

پاکستان کی آٹو صنعت طویل عرصے سے بلند درآمدی محصولات، مقامی اسمبلنگ، محدود برآمدات اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جیسے مسائل سے دوچار رہی ہے۔ نئی پالیسی میں برآمدی اہداف کو مرکزی حیثیت دینا اس حکمت عملی میں تبدیلی کی علامت ہے، لیکن 6 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لیے مقامی پیداوار کے حجم، معیار، پرزہ جات کی لوکلائزیشن، توانائی کی لاگت اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی میں نمایاں بہتری درکار ہوگی۔

صنعت کے لیے ٹیرف میں کمی ایک طرف درآمدی پرزہ جات اور نئی ٹیکنالوجی تک رسائی آسان کر سکتی ہے، تو دوسری طرف مقامی مینوفیکچررز پر مسابقت کا دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ اسی لیے پالیسی کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت ٹیرف اصلاحات کو مقامی سپلائی چین، تحقیق و ترقی، ہنرمند افرادی قوت اور برآمدی سہولتوں کے ساتھ کس طرح مربوط کرتی ہے۔

اس مرحلے پر پالیسی کو حتمی نافذ شدہ ضابطہ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ کابینہ کی منظوری اور تفصیلی قواعد ابھی باقی ہیں۔ حتمی دستاویز سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ ٹیرف کی کمی کی رفتار، ای وی ٹیکس، برآمدی ذمہ داریوں اور مقامی صنعت کے لیے عبوری تحفظ کی درست شرائط کیا ہوں گی۔