وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ اور پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے دوطرفہ ترقیاتی تعاون، معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان جاری ترقیاتی شراکت داری کا جائزہ لیا گیا اور ان شعبوں کی نشاندہی کی گئی جہاں تکنیکی تعاون اور سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی سرگرمی کو وسعت دی جا سکتی ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے، کاروباری ماحول بہتر بنانے اور نجی سرمایہ کاری کو سہولت دینے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے برطانوی ہائی کمشنر کو آگاہ کیا۔ بات چیت میں معاشی استحکام کو طویل مدتی اور شمولیتی نمو میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ترقیاتی تعاون کو ایسے شعبوں سے جوڑا جائے جہاں روزگار، پیداواری صلاحیت اور عوامی خدمات پر قابلِ پیمائش اثر پیدا ہو سکے۔

ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی اور پاکستان کی ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی زیر بحث آئی۔ حالیہ برسوں میں سیلاب اور شدید موسمی واقعات نے زرعی پیداوار، بنیادی ڈھانچے اور سرکاری مالیات پر دباؤ بڑھایا ہے، اس لیے موسمیاتی لچک کے منصوبے پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ برطانیہ مختلف ترقیاتی پروگراموں کے ذریعے پاکستان میں گورننس، تعلیم، صحت، موسمیاتی اقدامات اور نجی شعبے کی ترقی میں تعاون کرتا رہا ہے۔

احد چیمہ نے کہا کہ حکومت بیرونی شراکت داروں کے تعاون کو ملکی اصلاحات اور سرمایہ کاری کی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہتی ہے۔ اس تناظر میں تکنیکی معاونت، ادارہ جاتی صلاحیت، سرمایہ کاری کے لیے قابلِ پیش گوئی قواعد اور نجی سرمائے کو متحرک کرنے والے مالیاتی ذرائع اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ جین میریٹ نے پاکستان کے ساتھ برطانیہ کی طویل مدتی شراکت داری اور اصلاحات و ترقیاتی اہداف میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات میں تجارت، سرمایہ کاری اور پاکستانی نژاد برطانوی برادری بھی اہم عوامل ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ترقیاتی تعاون کی نوعیت گزشتہ برسوں میں روایتی امداد سے زیادہ تکنیکی شراکت داری، نجی سرمایہ کاری اور مخصوص اصلاحاتی پروگراموں کی طرف منتقل ہوئی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد سرکاری وسائل کے ساتھ نجی سرمائے اور مہارت کو بھی ترقیاتی اہداف کے لیے استعمال کرنا ہے۔

تازہ ملاقات میں کسی نئے بڑے مالی پیکیج یا مخصوص سرمایہ کاری معاہدے کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اسے دوطرفہ پالیسی رابطے اور جاری تعاون کے جائزے کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ عملی پیش رفت کا انحصار آئندہ منصوبوں، مالی وعدوں، سرمایہ کاری کے فیصلوں اور اصلاحاتی اقدامات کے قابلِ پیمائش نتائج پر ہوگا۔