اسلام آباد: وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ سینیٹر احد چیمہ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے منصوبوں کو مالی اور عملی عملداری کے مطابق درجہ بند کرے اور واضح مدت، فنانسنگ کی ضرورت اور ادارہ جاتی صلاحیت کو سامنے رکھتے ہوئے ایک قابل عمل بزنس پلان تیار کرے۔ یہ ہدایات این ایچ اے کی مالی پائیداری بہتر بنانے کے لیے ہونے والے جائزہ اجلاس میں دی گئیں۔

وزارت اقتصادی امور کے مطابق اجلاس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنسلٹنٹ کے ساتھ جاری جائزے، اتھارٹی کے کاروباری منصوبے اور مالی طور پر مستحکم ماڈل بنانے کے مختلف امکانات پر غور کیا گیا۔ حکام نے مطالعے کے ابتدائی نتائج پیش کیے اور این ایچ اے کی کارکردگی، آپریشنز اور مالی حیثیت بہتر بنانے کے لیے مختلف ماڈلز اور آپشنز سے آگاہ کیا۔

احد چیمہ نے کہا کہ زیر غور منصوبوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ ضروری ہے اور پی سی ون میں ایسے اشاریے شامل ہونے چاہییں جو منصوبے کی تجارتی عملداری واضح کریں۔ ان کے مطابق اس سے سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے لیے منصوبوں کی جانچ زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے اور سرمایہ کاری کے فیصلے زیادہ مضبوط بنیادوں پر کیے جا سکیں گے۔

وزیر نے این ایچ اے کو کہا کہ منصوبوں کو اس بنیاد پر الگ کیا جائے کہ کون سے منصوبے اپنی آمدن یا تجارتی بنیاد پر قابل عمل ہیں اور کن کے لیے حکومتی یا بیرونی مالی معاونت درکار ہوگی۔ ابتدائی مطالعات میں عملداری کا جائزہ واضح ہونا چاہیے اور انہیں بروقت وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے تاکہ مالی پہلو پر رائے حاصل کی جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ سرکاری یا بیرونی فنانسنگ حاصل کرنے کی صورت میں این ایچ اے کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے مختص فنڈز میں کمی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق پی ایس ڈی پی وسائل ترقیاتی پروگرام کے لیے بدستور اہم ہیں اور حکومت ان میں کٹوتی کے حق میں نہیں۔

اجلاس میں یہ اصول بھی سامنے رکھا گیا کہ تجارتی، معاشی اور سماجی اعتبار سے مضبوط منصوبوں کو ترجیح دی جائے تاکہ اتھارٹی پر ناقابل برداشت قرض ادائیگی کا بوجھ نہ بڑھے۔ ایسے منصوبے جو تجارتی لحاظ سے کمزور ہوں، ان پر فیصلہ کرنے سے پہلے زیادہ جامع مطالعہ اور جائزہ کیا جائے۔ وزیر نے اے ڈی بی کنسلٹنٹ کے ساتھ جاری کام تیز کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ منصوبوں کی نقشہ بندی، فزیبلٹی اور مالی تجزیے کو بہتر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں وزارت خزانہ، وزارت مواصلات، این ایچ اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔