لاہور: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے رواں مالی سال کے آمدن ہدف کو 66 ارب روپے سے بڑھا کر 160 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ ادارے کے اخراجات کو 50 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ تفصیلات لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری برادری سے گفتگو کے دوران بتائیں۔

وزیر مواصلات کے مطابق این ایچ اے اپنی آمدن میں اضافے کے ذریعے سڑکوں کے نئے منصوبوں اور موجودہ شاہراہوں کی بہتری کے لیے زیادہ وسائل پیدا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹول ٹیکس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی اضافی آمدن بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور مرمت پر استعمال کی جائے گی۔ اسی حکمت عملی کے تحت لاہور سیالکوٹ موٹروے کو موجودہ چار لین سے بڑھا کر چھ لین کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

عبدالعلیم خان نے بتایا کہ اس توسیعی منصوبے کے لیے این ایچ اے کی خود پیدا کردہ آمدن سے اضافی 10 ارب روپے استعمال کرنے کا ارادہ ہے۔ ان کے مطابق لاہور سے خیبر تک موٹروے سے متعلق منصوبہ 2027 میں مکمل کرنے کا ہدف ہے، جبکہ بلوچستان ایکسپریس وے دور دراز علاقوں تک رسائی بہتر بنانے اور خطرناک سڑکوں پر حادثات کے امکانات کم کرنے میں مدد دے گا۔

وزیر نے وضاحت کی کہ این ایچ اے کی آمدن کا قابل ذکر حصہ تنخواہوں، معمول کی سڑک مرمت، دیکھ بھال اور سیلاب سے متاثر ہونے والی سڑکوں اور پلوں کی ہنگامی بحالی پر خرچ ہوتا ہے۔ انہوں نے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت 224 ارب روپے کے وسائل کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان فنڈز کا بڑا حصہ بلوچستان میں قومی شاہراہوں کے منصوبوں کے لیے مختص ہے۔

کاروباری برادری نے اجلاس میں ٹول نرخوں اور نقل و حمل کے اخراجات سے متعلق تحفظات پیش کیے۔ لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹول ٹیکس میں اضافے سے پہلے بڑے چیمبرز سے مشاورت کی جائے کیونکہ مال برداری کے اخراجات بڑھنے سے صنعت کی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔ وزیر مواصلات نے کاروبار میں آسانی کے لیے تجاویز وزیراعظم کو پیش کرنے اور بلند شرح سود سے متاثر صنعتوں کے قرضوں کی ری شیڈولنگ پر بینکوں سے غور کرنے کی ضرورت بھی بیان کی۔