پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت زیر حراست پاکستان تحریک انصاف کے 28 کارکنوں کو عبوری ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو اپنے متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کی تسلی کے مطابق ایک ایک لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے اور ایسی کسی سرگرمی میں ملوث نہ ہونے کی تحریری یقین دہانی دینے کی ہدایت کی جو ریاست یا امن عامہ کے لیے نقصان دہ سمجھی جائے۔

جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بینچ نے احسن سمیت 28 درخواست گزاروں کی مشترکہ درخواست پر سماعت کی۔ کارکنوں نے محکمہ داخلہ کی جانب سے 12 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے حراستی احکامات کو چیلنج کر رکھا ہے۔ عدالت نے ابتدائی طور پر قرار دیا کہ درخواست گزار عبوری ریلیف کے لیے بادی النظر میں مقدمہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ معاملہ آئین میں دیے گئے زندگی اور آزادی سے متعلق بنیادی حقوق سے جڑا ہے۔

درخواست گزاروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ سیکشن 3 ایم پی او کے تحت جاری حراستی احکامات تقریباً یکساں نوعیت کے ہیں اور ان میں ہر زیر حراست شخص کے خلاف کسی مخصوص واقعے یا واضح عمل کی تفصیل نہیں دی گئی۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے نظائر اور پشاور ہائی کورٹ کے سوات اور ایبٹ آباد بینچوں کے حالیہ عبوری احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے یکساں ریلیف کی استدعا کی۔

صوبائی حکومت کی نمائندگی کرنے والے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقار خلیل نے جواب اور متعلقہ ریکارڈ جمع کرانے کے لیے مہلت مانگی۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 27 اکتوبر مقرر کی ہے۔ الگ طور پر ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے مزید 122 پی ٹی آئی کارکنوں نے بھی ایم پی او کے تحت اپنی حراست کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

عدالت کا موجودہ حکم حراستی احکامات کو حتمی طور پر غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ نہیں بلکہ عبوری ضمانت ہے۔ اصل آئینی اور قانونی سوالات پر فریقین کے تفصیلی جواب اور ریکارڈ کے بعد مزید سماعت ہوگی۔ اس لیے کارکنوں کی رہائی کو مقدمے کے حتمی فیصلے سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔