حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے اہل خانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے نام ایک کھلے خط کے ذریعے پولیس تحقیقات پر دوبارہ عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور واقعے کی آزادانہ جانچ کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ موجودہ تفتیش میں کئی اہم پہلوؤں کو مناسب طور پر نہیں دیکھا جا رہا اور تحقیقات کا رخ مبینہ طور پر ذمہ داری کو محدود کرنے کی طرف جا رہا ہے۔
اہل خانہ نے خط میں الزام عائد کیا کہ حنا کے شوہر کے لیپ ٹاپ اور شوہر و گھریلو ملازم کے موبائل فونز کی فرانزک رپورٹس ابھی زیر التوا ہیں، جبکہ حنا کے موبائل فون سے بعض اہم پیغامات حذف کیے گئے۔ خاندان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تحقیقات حنا کے شوہر سے توجہ ہٹا کر صرف گھریلو ملازم کی طرف مرکوز کی جا رہی ہیں۔ یہ تمام نکات خاندان کے الزامات ہیں اور انہیں کسی عدالتی فیصلے یا ثابت شدہ نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
خط میں حنا کے شوہر پر مبینہ طور پر شواہد رکھنے یا ترتیب دینے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ اس الزام کی آزادانہ عدالتی یا فرانزک تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے متعلقہ شخص کو قانونی طور پر اس وقت تک مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک عدالت میں الزام ثابت نہ ہو۔ پولیس کی جاری تفتیش، فرانزک رپورٹس اور عدالتی کارروائی ہی ذمہ داری کے حتمی تعین کے لیے بنیادی حیثیت رکھیں گی۔
اہل خانہ کا عدالتی کمیشن کا مطالبہ اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ تفتیش کسی ایسے فورم کے تحت ہو جس پر تمام فریق اعتماد کر سکیں۔ پنجاب حکومت یا وزیراعلیٰ کی جانب سے اس تازہ خط کے جواب میں عدالتی کمیشن کے قیام کی حتمی منظوری کی فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
قتل کے مقدمات میں ڈیجیٹل شواہد، فون ریکارڈ، فرانزک تجزیہ، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور گواہوں کے بیانات اہم ہوتے ہیں، مگر ان کی قانونی قدر کا تعین تفتیش اور عدالت کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس کیس میں بھی اہل خانہ کے خدشات اور پولیس کے ممکنہ نتائج کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ آئندہ فرانزک رپورٹس اور عدالتی پیش رفت سے ہی یہ واضح ہوگا کہ الزامات میں سے کون سے شواہد سے ثابت ہوتے ہیں۔
