مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نواح میں اتوار کو ایک مسافر جیپ پہاڑی ڈھلوان سے نیچے جا گری، جس کے نتیجے میں سات افراد جان سے گئے۔ پولیس اور انتظامی حکام کے مطابق حادثے میں ایک والد اور ان کے دو بیٹے بھی جاں بحق ہوئے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق جیپ نکہ شکر پٹیاں گاؤں سے سیری درہ کی جانب روانہ ہوئی تھی اور تقریباً تین کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد دوپہر کے قریب ستھرا پوڈیمار کے مقام پر حادثے کا شکار ہوئی۔ حکام نے بتایا کہ سڑک کا متعلقہ حصہ لینڈ سلائیڈنگ سے متاثر تھا، جہاں ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا۔ جیپ پہاڑی ڈھلوان پر کئی بار الٹتے ہوئے نیچے جا کر مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق گاڑی سڑک سے اندازاً ایک ہزار سے پندرہ سو فٹ نیچے گری اور اس میں موجود ساتوں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ مقامی لوگوں نے ابتدائی طور پر جائے حادثہ سے لاشیں نکالنے کا کام شروع کیا، جس کے بعد ریسکیو 1122 کے اہلکار بھی وہاں پہنچ گئے۔ پولیس نے بتایا کہ قانونی کارروائی کے بعد لاشیں تدفین کے لیے لواحقین کے حوالے کردی گئیں۔

حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں 40 سالہ ڈرائیور عبد الوحید، 30 سالہ محمد خالد، 35 سالہ شفاعت، 50 سالہ فیاض احمد اور فیاض احمد کے تین بیٹے عبید فیاض، اعظم فیاض اور افتخار حسین شامل ہیں۔

آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں گہری کھائیوں، خراب یا لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ سڑکوں اور پرانی گاڑیوں کے باعث ٹریفک حادثات ایک مستقل حفاظتی مسئلہ ہیں۔ ایک روز قبل وادی نیلم میں بھی ایک گاڑی کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے چار بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ تازہ واقعہ نے ایک بار پھر دشوار گزار علاقوں میں سڑکوں کی دیکھ بھال، گاڑیوں کی فٹنس اور ٹرانسپورٹ قوانین کے مؤثر نفاذ کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔