سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے متعلق ایک طویل جائیداد اور کرایہ داری تنازع میں سندھ ہائیکورٹ کا 5 دسمبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ دوبارہ ہائیکورٹ کو بھیج دیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ہدایت کی کہ سندھ ہائیکورٹ معاملے کا آزادانہ طور پر ازسرنو جائزہ لے اور ترجیحاً چھ ماہ کے اندر فیصلہ کرے۔
مقدمہ ایک ہزار مربع گز کے پلاٹ سے متعلق ہے جسے راشدہ بیگم نے 2011 میں دو رجسٹرڈ فروخت ناموں کے ذریعے خریدا تھا۔ جائیداد پہلے ہی سندھ حکومت کے زیر کرایہ تھی اور سابق مالک کو ماہانہ 50 ہزار روپے کرایہ ادا کیا جاتا تھا۔ نئی مالک نے سندھ رینٹڈ پریمسز آرڈیننس 1979 کے تحت حکومت کو ملکیت کی تبدیلی سے آگاہ کیا۔
بعد کی قانونی کارروائی میں سندھ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ جائیداد سرکاری تحویل میں تھی اور اصل خریدار کے حق میں ہونے والی نیلامی 1974 میں مطلوبہ رقم بروقت جمع نہ کرانے کی وجہ سے منسوخ ہو چکی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس امر پر سوال اٹھایا کہ اگر صوبائی حکومت واقعی جائیداد پر قانونی حق یا ملکیت رکھتی تھی تو اس نے طویل عرصے تک اس حق کو پہلے کیوں نہیں اٹھایا، خصوصاً جب سابقہ کارروائیوں میں مالک و کرایہ دار کے تعلق کو تسلیم کیا گیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ محض زبانی طور پر یہ کہنا کہ کئی دہائیاں پہلے نیلامی منسوخ ہو گئی تھی، کرایہ داری کے قائم شدہ تعلق کو خود بخود ختم کرنے کے لیے کافی نہیں۔ فیصلے میں اس اصول کا بھی حوالہ دیا گیا کہ ایک فریق ایک ہی معاملے میں باہم متضاد مؤقف اختیار نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے ملکیت کا حتمی فیصلہ خود نہیں دیا بلکہ معاملہ سندھ ہائیکورٹ کو دوبارہ غور کے لیے بھیجا ہے۔ اس لیے تازہ حکم کو کسی ایک فریق کی قطعی ملکیت کی حتمی عدالتی توثیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اب ہائیکورٹ کو دستیاب دستاویزات، سابقہ عدالتی نتائج، کرایہ داری کے ریکارڈ اور صوبائی حکومت کے دعووں کا ازسرنو جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہوگا۔

