کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بنیاد پر کیے گئے آپریشن میں عادل شاہ عرف درویش نامی عسکریت پسند کمانڈر مارا گیا ہے۔ یہ اطلاع سرکاری ریڈیو اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے پاکستانی ذرائع ابلاغ نے دی ہے۔ آزاد ذرائع سے آپریشن کی تمام تفصیلات کی فوری تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے کارروائی اور ہلاک شخص سے متعلق دعوے سرکاری ذرائع سے منسوب ہیں۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق عادل شاہ کا تعلق اس گروہ سے بتایا گیا جسے ریاستی ادارے فتنۃ الخوارج کہتے ہیں، یہ اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عسکریت پسندوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ دسمبر 2020 سے تنظیم کے ساتھ منسلک تھا اور 2024 سے اس کے مالی معاملات سنبھال رہا تھا۔
حکام نے دعویٰ کیا کہ عادل شاہ بلوچستان کے ژوب، شیرانی اور شعبان کے علاقوں میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کے لیے مستقل رہائش کے انتظام میں سہولت کاری کرتا رہا۔ سرکاری معلومات میں اسے 2022 سے سکیورٹی فورسز پر حملوں اور تاوان کے لیے اغوا کی وارداتوں سے بھی جوڑا گیا ہے۔ ان الزامات کی نوعیت سکیورٹی اداروں کے دعووں پر مبنی ہے اور انہیں عدالتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔
رپورٹ کے مطابق مختلف تھانوں میں عادل شاہ کے خلاف 19 ایف آئی آر درج تھیں اور اس کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ-3 کے تحت عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور یہ مہم جاری رکھی جائے گی۔
بلوچستان حالیہ مہینوں میں دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں کا اہم مرکز رہا ہے۔ اکتوبر کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں متعدد انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے حوالے سے ڈان نے بتایا کہ ستمبر میں ملک بھر میں دہشت گرد حملوں کی تعداد اگست کے مقابلے میں بڑھی، جبکہ بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا۔
تازہ کارروائی کی خبر متعدد پاکستانی ذرائع نے سکیورٹی یا سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔ دستیاب معلومات میں آپریشن کے مقام کی تفصیلی جغرافیائی نشاندہی، فورسز کے جانی نقصان یا کسی گرفتاری کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس لیے رپورٹ انہی حقائق تک محدود ہے جن کی سرکاری سطح پر اطلاع دی گئی ہے، جبکہ کسی اضافی دعوے کو تصدیق کے بغیر شامل نہیں کیا گیا۔

