ویانا: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے یونگ بیون جوہری کمپلیکس میں یورینیم افزودگی کی ایک نئی تنصیب تعمیر کی ہے، جو پیانگ یانگ کے جوہری مواد تیار کرنے کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں توسیع کی نشاندہی کرتی ہے۔ آئی اے ای اے کے مطابق نئی عمارت میں 28 تک سینٹری فیوج کیسکیڈز رکھنے کی گنجائش ہو سکتی ہے۔

آئی اے ای اے کو 2009 سے شمالی کوریا میں براہ راست معائنہ کرنے کی اجازت نہیں، اس لیے ایجنسی اپنی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ تصاویر، کھلے ذرائع اور شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا میں جاری کردہ تصویری مواد کا تجزیہ کرتی ہے۔ اسی بنیاد پر ایجنسی نے کہا کہ یونگ بیون میں نئی دو منزلہ عمارت میں دونوں منزلوں پر سینٹری فیوج سے متعلق انتظام موجود ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ یہ جائزہ براہ راست سائٹ انسپیکشن نہیں، اس لیے تنصیب کی مکمل تکنیکی تفصیلات محدود ذرائع سے اخذ کی گئی ہیں۔

ایجنسی نے یہ بھی بتایا کہ پیانگ یانگ کے قریب کانگسون افزودگی مرکز کے ایک توسیعی حصے میں سرگرمیاں بڑھی ہیں۔ یہ حصہ 2024 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ آئی اے ای اے نے ان پیش رفتوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ افزودگی کی صلاحیت میں اضافہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے برخلاف ہے اور اس سے ہتھیاروں کے لیے قابل استعمال جوہری مواد کی تیاری کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔

شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں کے درجے کو ناقابل واپسی قرار دیتا ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے باہر ہے۔ پیانگ یانگ ماضی میں آئی اے ای اے کے دائرہ اختیار کو مسترد کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ ایجنسی کو اس کے داخلی معاملات میں مداخلت کا قانونی حق نہیں۔ اس لیے آئی اے ای اے کے خدشات اور شمالی کوریا کا مؤقف بنیادی طور پر متصادم ہیں۔

نئی تنصیب کی اطلاع ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کے بارے میں نگرانی جاری ہے۔ چونکہ بین الاقوامی معائنہ کار ملک کے اندر موجود نہیں، آئندہ سیٹلائٹ مشاہدات، سرکاری اعلانات اور ممکنہ سفارتی رابطے ہی یہ واضح کر سکیں گے کہ نئی صلاحیت کس رفتار سے عملی پیداوار میں استعمال ہو رہی ہے۔