پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کے دوران سات دہشت گرد مارے گئے، سرکاری میڈیا نے جمعہ کو سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا۔ ڈان کے مطابق کارروائی عیدک کے علاقے میں کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور کارروائی کے دوران سات افراد مارے گئے جنہیں ریاستی ذرائع نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ دہشت گرد قرار دیا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کارروائی میں مطلوب عناصر کا تعاقب کیا اور ان کے ٹھکانے تباہ کیے۔ ریاست پاکستان ٹی ٹی پی سے وابستہ عناصر کے لیے ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔ واقعے کی ابتدائی تفصیلات سکیورٹی ذرائع اور سرکاری میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہیں؛ رپورٹ میں مارے گئے افراد کی شناخت یا کارروائی کے تمام عملی پہلوؤں کی آزادانہ تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

صدر آصف علی زرداری نے آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر نے دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے فورسز کی کوششوں کو سراہا۔ دیگر حکومتی عہدیداروں کی جانب سے بھی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

شمالی وزیرستان طویل عرصے سے شدت پسند سرگرمیوں اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے۔ پاکستان کے سکیورٹی ادارے حالیہ عرصے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشنز کی اطلاعات دیتے رہے ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد مسلح گروہوں کے نیٹ ورکس، پناہ گاہوں اور حملوں کی منصوبہ بندی کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔

اس واقعے میں ہلاکتوں اور تباہ کیے گئے ٹھکانوں سے متعلق اعداد سرکاری میڈیا اور سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں کسی آزاد ادارے کی موقع پر تصدیق شامل نہیں، اس لیے خبر میں دعوؤں کو انہی ذرائع سے منسوب رکھا گیا ہے۔ مزید تفصیلات، شناختوں یا برآمد شدہ مواد سے متعلق معلومات سرکاری سطح پر جاری ہونے کی صورت میں واقعے کی تصویر مزید واضح ہو سکتی ہے۔