اسلام آباد: نیشنل ٹیرف کمیشن (این ٹی سی) نے چین سے درآمد ہونے والی مخصوص فارماسیوٹیکل پیکیجنگ ایلومینیم فوائل پر 9.03 فیصد حتمی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ کمیشن کے فیصلے کے مطابق یہ اقدام مقامی صنعت کو ان درآمدات سے ہونے والے مادی نقصان کے تعین کے بعد کیا گیا اور ڈیوٹی پانچ سال کے لیے نافذ رہے گی۔

کارروائی کا آغاز مقامی صنعت کی درخواست پر کیا گیا تھا۔ زینتھ پیکیجز پرائیویٹ لمیٹڈ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ چین سے متعلقہ مصنوعات ایسی قیمتوں پر پاکستان میں فروخت کی جا رہی ہیں جو ڈمپنگ کے زمرے میں آتی ہیں اور اس سے ملکی صنعت کی پیداوار، فروخت اور مالی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ این ٹی سی نے درخواست اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد باقاعدہ تحقیقات شروع کی تھیں۔

تحقیقات میں کمیشن نے درآمدی قیمتوں، مقامی صنعت کی کارکردگی، مارکیٹ میں مصنوعات کی موجودگی اور مبینہ نقصان کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا۔ حتمی تعین میں این ٹی سی نے نتیجہ اخذ کیا کہ زیرِ تفتیش چینی مصنوعات کی ڈمپنگ ہوئی اور اس کے نتیجے میں مقامی صنعت کو مادی نقصان پہنچا۔ اسی بنیاد پر 9.03 فیصد اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی مقرر کی گئی۔

فیصلے کا اطلاق مخصوص فارماسیوٹیکل پیکیجنگ میں استعمال ہونے والی ایلومینیم فوائل پر ہوگا، نہ کہ ہر قسم کی ایلومینیم مصنوعات پر۔ اینٹی ڈمپنگ اقدامات کا مقصد عام درآمدی تحفظ فراہم کرنا نہیں بلکہ تجارتی قانون کے تحت اس صورت میں قیمت کا تدارک کرنا ہوتا ہے جب تحقیقات میں ڈمپنگ اور مقامی صنعت کو قابلِ پیمائش نقصان کے درمیان تعلق ثابت ہو۔

ڈیوٹی کی پانچ سالہ مدت سے متعلقہ درآمد کنندگان اور فارماسیوٹیکل پیکیجنگ سپلائی چین کو نئی لاگت کے اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ مقامی صنعت کو قیمت کے مبینہ غیر منصفانہ دباؤ سے تحفظ ملے گا۔ تاہم حتمی مارکیٹ اثر درآمدی حجم، عالمی خام مال کی قیمتوں، مقامی پیداواری صلاحیت اور ادویات کی پیکیجنگ کی طلب پر منحصر رہے گا۔

این ٹی سی پاکستان میں اینٹی ڈمپنگ قوانین کے نفاذ کا مجاز ادارہ ہے اور ایسی تحقیقات میں درخواست گزار مقامی صنعت، غیر ملکی برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان سے معلومات حاصل کر کے فیصلہ کرتا ہے۔ موجودہ حکم اسی قانونی عمل کے نتیجے میں جاری کیا گیا ہے اور اس میں حتمی ڈیوٹی کی شرح واضح کر دی گئی ہے۔