اسلام آباد: نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، نسٹ، کے 45 محققین کو 2026 میں دنیا کے نمایاں دو فیصد سائنسدانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ نسٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ درجہ بندی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور علمی اشاعتی ادارے ایلسیویئر سے وابستہ عالمی تحقیقی ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے اور مختلف شعبوں میں محققین کے علمی اثر اور حوالہ جاتی ریکارڈ کو سامنے لاتی ہے۔

یونیورسٹی کے مطابق فہرست میں شامل 45 محققین انجینئرنگ، کمپیوٹنگ، سائنس اور دیگر تخصصات میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے 16 محققین مسلسل کئی برس سے اس عالمی درجہ بندی میں شامل ہوتے آ رہے ہیں، جسے ادارے نے ان کے طویل مدتی تحقیقی اثر اور علمی پیداوار کی علامت قرار دیا ہے۔

نسٹ کے ریکٹر ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے منتخب محققین کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی یونیورسٹی اور ملک کے لیے باعث فخر ہے اور پاکستان کے تحقیقی اداروں کی عالمی علمی برادری میں موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے مطابق ادارہ سائنسی تحقیق، فکری قیادت اور حقیقی دنیا کے پیچیدہ مسائل کے حل پر مبنی کام کو فروغ دینے کی کوشش جاری رکھے گا۔

رپورٹ کے مطابق نسٹ کے علاوہ پاکستان کی دیگر جامعات سے وابستہ فیکلٹی ارکان اور محققین بھی عالمی ٹاپ دو فیصد سائنسدانوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ایسی درجہ بندیاں عام طور پر اشاعتی ریکارڈ، حوالہ جات اور مختلف شعبوں میں تحقیقی اثر کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا پر انحصار کرتی ہیں۔ اس لیے فہرست میں شمولیت کو کسی ایک تحقیق یا ایک سال کی اشاعت کے بجائے علمی کام کے وسیع تر اثر کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

پاکستان کی جامعات کے لیے عالمی تحقیقی فہرستوں میں موجودگی تحقیق کے معیار، بین الاقوامی تعاون اور اعلیٰ تعلیم کی ساکھ کے حوالے سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ تاہم کسی عالمی رینکنگ میں محققین کی تعداد جامعات کے مجموعی معیار کا واحد پیمانہ نہیں ہوتی؛ تدریس، تحقیق کی عملی افادیت، فنڈنگ، طلبہ کی تربیت، تحقیقی دیانت اور صنعتی و سماجی اثر بھی اہم عوامل ہیں۔

نسٹ نے 45 محققین کی شمولیت کو ادارے کی تحقیقی حکمت عملی کے تسلسل سے جوڑا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اعزاز مختلف علمی شعبوں میں کام کرنے والے محققین کو ملا ہے اور مسلسل فہرست میں آنے والے 16 سائنسدانوں کی موجودگی ادارے کے لیے خاص طور پر نمایاں ہے۔