امریکا میں وسط مدتی انتخابات قریب آنے کے ساتھ سیاسی مہم میں شدت آ گئی ہے اور سابق صدر باراک اوباما نے مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اوباما نے اپنی تقریر میں ٹرمپ کی حکمرانی، مفادات کے ٹکراؤ اور سیاسی حکمت عملی کو نشانہ بنایا، جبکہ موجودہ صدر نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے ریپبلکن اتحادیوں کی حمایت جاری رکھی۔
ٹرمپ ووٹروں سے مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ مڈٹرم انتخابات کو ایسے دیکھیں جیسے خود صدر بیلٹ پر موجود ہوں۔ اس حکمت عملی کے جواب میں اوباما نے بھی انتخاب کو ٹرمپ کی صدارت اور پالیسیوں پر سیاسی فیصلہ قرار دینے کی کوشش کی۔ سابق صدر نے ریپبلکن انتظامیہ کے معاشی اور سیاسی ریکارڈ پر سوال اٹھائے اور ڈیموکریٹک ووٹروں کو بھرپور شرکت کی ترغیب دی۔
مشی گن میں سینیٹ کی دوڑ خاص توجہ کا مرکز ہے۔ ٹرمپ نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کرتے ہوئے اپنی انتظامیہ کے دوران ریاست میں آٹو صنعت، روزگار اور فوجی تنصیبات سے متعلق کامیابیوں کے دعوے کیے۔ انہوں نے ڈیموکریٹ امیدوار عبدال السید کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انتخابی مہم میں دونوں جماعتیں معیشت، امیگریشن، خارجہ پالیسی اور صدر کی کارکردگی کو ووٹروں کے سامنے مرکزی موضوع بنا رہی ہیں۔
اوباما کی تقریر میں ٹرمپ کے بارے میں استعمال کی گئی سخت زبان انتخابی بیان بازی کا حصہ ہے اور اسے کسی عدالتی یا سرکاری قانونی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اسی طرح ٹرمپ کے اپنے معاشی اور سیاسی کامیابیوں سے متعلق دعوے بھی انتخابی مہم کے دعوے ہیں جن کا جائزہ سرکاری اعداد و شمار اور آزادانہ تجزیوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔
مڈٹرم انتخابات کانگریس میں طاقت کے توازن اور ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے باقی حصے کے قانون سازی ایجنڈے پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے سابق صدور، قومی رہنما اور دونوں جماعتوں کے بڑے سیاسی نام اہم ریاستوں میں مہم چلا رہے ہیں۔ مشی گن ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں سینیٹ اور دیگر مقابلوں کے نتائج قومی سطح پر سیاسی توازن کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
