اسلام آباد: پاکستان میں سرکاری یا بلیو پاسپورٹس کی تعداد 74 ہزار سے کم ہو کر 49 ہزار رہ گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن و پاسپورٹس محمد علی رندھاوا نے یہ معلومات سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سیدال خان ناصر سے ملاقات کے دوران فراہم کیں۔ ڈان کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق حکام نے اس کمی کو بین الاقوامی ذمہ داریوں اور انتظامی ضروریات سے ہم آہنگ اقدام قرار دیا ہے۔
ملاقات میں پاسپورٹ کے اجرا کے موجودہ نظام، ادارے کی کارکردگی، سکیورٹی فیچرز اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولتوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکام نے مستقبل قریب میں نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی، نادرا، کے ذریعے پاسپورٹ اجرا کی سہولت متعارف کرانے کی تجویز پر بھی بات کی۔ اس منصوبے کا مقصد خدمات تک رسائی میں اضافہ اور پاسپورٹ نظام کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔
سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین نے پاسپورٹ اجرا کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوامی سہولت بہتر بنانے کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ درخواست جمع کرانے سے لے کر پاسپورٹ کی ترسیل تک تمام مراحل میں ڈیجیٹل نظام اور آٹومیشن کا دائرہ بڑھایا جائے تاکہ شہریوں کو غیر ضروری تاخیر، طویل انتظار اور انتظامی پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ملاقات میں شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ حکام کے مطابق ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تصدیق اور بہتر انتظامی طریقہ کار نہ صرف پاسپورٹ کے اجرا کو تیز کر سکتے ہیں بلکہ دستاویز کی سکیورٹی اور ادارے پر عوامی اعتماد میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔
بلیو پاسپورٹس کی تعداد میں کمی سرکاری سفری دستاویزات کے دائرہ کار کو محدود اور منظم کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ کن مخصوص عہدوں یا زمروں کی اہلیت میں تبدیلی کی گئی ہے۔ آئندہ نادرا کے ذریعے سہولت کی عملی شکل، اس کے نفاذ کا وقت اور درخواست دہندگان کے لیے طریقہ کار متعلقہ اداروں کی مزید ہدایات سے واضح ہوگا۔

